تحریر:سعدیہ مجید
کہتے ہیں خواب وہی دیکھو جو آنکھوں کو جگا دیں۔ مگر آج ہمارے نوجوان ایسے خواب دیکھتے ہیں جو جاگنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ وہ خواب جو کبھی اُمیدوں کے رنگوں سے سجے تھے، اب نااُمیدی کی دھول میں دب چکے ہیں۔
پاؤلو کوئیلو نے کہا تھا:
“When you want something, all the universe conspires in helping you to achieve it.”
لیکن ہمارے نوجوانوں کے لیے یہ جملہ ایک خواب کی طرح لگتا ہے، کیونکہ یہاں کائنات نہیں، نظام سازش کرتا ہے کہ خواب حقیقت نہ بن سکیں۔
پاکستان میں ہر سال ہزاروں نوجوان تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کے خواب، اپنی محنت، اور اپنے مستقبل کی امید لیے میدانِ عمل میں اترتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی وہ عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں، دروازے بند ملتے ہیں۔ سرکاری بھرتیوں میں سفارش کا راج، نجی اداروں میں کم تنخواہیں، اور فری لانسنگ کی غیر یقینی دنیا— یہ سب مل کر ایک خاموش بحران کو جنم دیتے ہیں۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح 9.8 فیصد رہی۔ مگر یہ صرف ایک عدد نہیں، بلکہ ایک چیخ ہے جو شاید کوئی نہیں سن رہا۔
اقبال نے کہا تھا:
“افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر،
ہر فرد ہے ملت کے مقدّر کا ستارہ۔”
لیکن جب ستارے ہی بجھا دیے جائیں تو قوم کی رات کتنی روشن رہ سکتی ہے؟
نوجوان وہ سرمایہ ہیں جو کسی بھی قوم کے مستقبل کو سنہری بنا سکتے ہیں، مگر جب انہیں مواقع کی بجائے محرومیاں ملیں تو ان کے خوابوں کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقیات بھی ٹوٹنے لگتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ناامیدی، بے راہ روی اور منشیات اپنی جڑیں مضبوط کرتی ہیں۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں چھ ملین سے زائد افراد منشیات کے عادی ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد 18 سے 30 سال کے نوجوانوں کی ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ نظام کی ناکامی کا عکاس ہے۔
جب روزگار نہ ہو، انصاف نایاب ہو، اور امید مر جائے، تو انسان خود کو مفلوج محسوس کرتا ہے۔ یہی مفلوج ذہن پھر وقتی سکون کے لیے زہر پیتا ہے، جو رفتہ رفتہ زندگی نگل لیتا ہے۔
پاؤلو کوئیلو کہتا ہے:
“It’s the possibility of having a dream come true that makes life interesting.”
لیکن ہمارے نوجوانوں کے لیے خواب سچ ہونے کی یہ "possibility” ہی ختم کر دی گئی ہے۔
ہر کامیابی کے راستے پر ایک نیا دروازہ ہے، مگر اس پر لکھا ہوتا ہے: “تعلق ضروری ہے”۔
یہی وہ لمحہ ہے جب محنت ہار جاتی ہے اور نظام جیت جاتا ہے۔
کبھی غور کریں تو مسئلہ صرف روزگار کا نہیں، انصاف کے احساس کا ہے۔
ایک نوجوان جس نے دن رات پڑھائی میں گزارے، مقابلے کے امتحان کی تیاری کی، وہ جب دیکھتا ہے کہ اس کی جگہ کسی سفارش یافتہ کو مل گئی ہے تو اس کے دل میں نہ صرف غصہ بلکہ بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔
یہ بیگانگی قوموں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
ایسے ہی نوجوان جب معاشرتی لاتعلقی کا شکار ہوتے ہیں تو وہ دو انتہاؤں میں بٹ جاتے ہیں — یا ہجرت کی کوشش کرتے ہیں، یا بے حسی کا شکار ہو کر خود سے لڑنے لگتے ہیں۔
اقبال نے نوجوان کو "شاہین” کہا کیونکہ وہ بلندی کا متلاشی ہے۔
لیکن اگر شاہین کے پر باندھ دیے جائیں، تو وہ پرواز نہیں کر سکتا۔
نظام کی یہی بے حسی ہمارے شاہینوں کو زمین پر گرا رہی ہے۔
اقبال نے فرمایا:
“نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے،
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔”
یہی پیغام ہمیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے — ہمارے نوجوان ابھی مکمل مایوس نہیں ہوئے، مگر اگر ہم نے انہیں اور دھکیلا، تو شاید ان کی امید کا چراغ بھی بجھ جائے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خوابوں کو صرف تقریروں کا موضوع نہ بنائیں بلکہ پالیسی کا محور بنائیں۔
نوجوانوں کے لیے شفاف بھرتی کے نظام، فنی تربیت، اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔
ہمیں اسکولوں اور کالجوں میں صرف نصاب نہیں بلکہ رہنمائی کا نظام دینا ہوگا تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ کامیابی کا راستہ لمبا ضرور ہے مگر موجود ہے۔
اسی طرح میڈیا اور سماجی اداروں کو چاہیے کہ وہ محض بحران نہیں، امید کے زاویے بھی دکھائیں۔
پاؤلو کوئیلو کا ایک اور جملہ ہے:
“There is only one thing that makes a dream impossible to achieve: the fear of failure.”
مگر ہمارے ہاں خواب ناممکن اس لیے نہیں کہ نوجوان ناکامی سے ڈرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ نظام ان کے اعتماد کو مار دیتا ہے۔
یہ خوف ان کے دل میں نہیں بلکہ سماج کے ڈھانچے میں بسا ہوا ہے۔
ہمیں اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے نوجوانوں کو مزید مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلیں گے یا ان کے ہاتھوں میں چراغ دیں گے۔
قوموں کی تقدیر ان کے نوجوان لکھتے ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ قلم ان کے ہاتھ میں رہے۔
جب قلم چھین لیا جائے، تو زبانیں یا تو خاموش ہو جاتی ہیں یا احتجاج بن جاتی ہیں۔
آخر میں، یہ کالم ایک سوال چھوڑتا ہے:
کیا ہم واقعی اپنے نوجوانوں کو خواب دینے کے اہل ہیں؟
اگر ہاں، تو پھر انہیں خواب جینے کے مواقع بھی دیں۔
اگر نہیں، تو پھر پاؤلو کوئیلو اور اقبال دونوں ہمیں یاد دلائیں گے کہ خواب وہی مرتے ہیں جنہیں ہم جینے نہیں دیتے۔





