بلاگزمضامین اور کالم

مشکل حالات میں استقامت کی سیاست: ریاستی بقا، سلامتی اور قومی عزم کی نئی تعبیر

تحریر: سعدیہ مجید

مشکل حالات میں قوموں کی اصل طاقت ان کے وسائل سے نہیں بلکہ ان کے اداروں کی استقامت، نظم و ضبط اور طویل المدتی حکمت عملی سے پہچانی جاتی ہے۔ پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ، بیرونی قرضوں، مہنگائی اور مالیاتی عدم توازن جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ، کرنسی کی قدر میں کمی، اور بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت نے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس کے باوجود ریاستی ڈھانچہ قائم ہے، آئینی تسلسل برقرار ہے، اور سب سے بڑھ کر سرحدیں محفوظ ہیں۔ یہ حقیقت اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ سلامتی کا نظام ابھی تک اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔

2023 اور 2024 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز کی جانب سے سینکڑوں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں متعدد شدت پسند نیٹ ورکس کو توڑا گیا، اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کیا گیا، اور دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔ سرحدی نگرانی کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا گیا، پاک افغان سرحد پر باڑ کی تکمیل نے غیر قانونی آمدورفت میں نمایاں کمی لائی، جبکہ لائن آف کنٹرول پر ہمہ وقت نگرانی اور فوری ردعمل کی حکمت عملی نے کسی بڑے تصادم کو جنم لینے سے روکے رکھا۔

بھارت کے ساتھ تعلقات میں تاریخی تناؤ موجود ہے۔ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی بحالی کے باوجود باہمی عدم اعتماد برقرار ہے۔ مغربی سرحد پر افغانستان کی غیر یقینی سیاسی صورت حال نے بھی سکیورٹی خدشات کو مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ، چین، روس اور خلیجی ممالک کے درمیان معاشی اور تزویراتی صف بندیاں نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ ایسے پیچیدہ ماحول میں پاکستان کی عسکری قیادت نے دفاعی حکمت عملی کو محض جنگی تیاری تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اسٹریٹیجک توازن اور علاقائی استحکام کے وسیع تناظر میں ترتیب دیا ہے۔

یہ امر قابل غور ہے کہ دفاعی بجٹ مجموعی قومی پیداوار کے محدود حصے پر مشتمل ہونے کے باوجود، پیشہ ورانہ مہارت، تربیت، اور ادارہ جاتی نظم نے قوت مدافعت کو برقرار رکھا۔ جدید عسکری مشقیں، مشترکہ تربیتی پروگرامز، اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی نے نہ صرف داخلی سلامتی کو سہارا دیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو بھی مضبوط کیا۔ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی دستوں کی شمولیت بھی اسی پیشہ ورانہ قابلیت کا ثبوت ہے۔

معاشی کمزوری کے باوجود ریاستی نظم کا برقرار رہنا ایک اہم حقیقت ہے۔ دنیا کے کئی امیر ممالک میں داخلی انتشار، نسلی کشیدگی، سیاسی تقسیم اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ وہاں وسائل کی فراوانی کے باوجود اعتماد کا بحران جنم لے رہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں تمام تر معاشی مشکلات کے باوجود ریاستی کنٹرول اور ادارہ جاتی تسلسل ٹوٹنے نہیں دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسائل موجود نہیں، بلکہ یہ کہ بنیادی سکیورٹی فریم ورک فعال ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں یہ ترسیلات اربوں ڈالر سالانہ رہیں، جس نے زر مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا۔ کچھ شعبوں میں ہنر مند افراد کی وطن واپسی اور سرمایہ کاری کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ اس رجحان کی ایک بڑی وجہ داخلی سلامتی میں نسبتی بہتری اور مستقبل کے حوالے سے اعتماد کا عنصر ہے۔ سرمایہ ہمیشہ استحکام کی طرف جاتا ہے، اور استحکام صرف معاشی نہیں بلکہ سکیورٹی سے جڑا ہوتا ہے۔

یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ مضبوط معیشت کے بغیر قومی ترقی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔ مگر یہ بھی اتنا ہی درست ہے کہ مضبوط سرحد کے بغیر معیشت کھڑی نہیں رہ سکتی۔ دفاع محفوظ نہ ہو تو صنعت، تجارت، تعلیم اور سماجی ترقی سب غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے قومی سلامتی کی پالیسی کو داخلی استحکام اور بیرونی توازن کے دو ستونوں پر استوار کیا گیا ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں، دوسری طرف علاقائی سفارت کاری میں توازن کی کوششیں، اس دو رخی حکمت عملی کی عکاس ہیں۔

آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معاشی اصلاحات، گورننس میں بہتری اور ادارہ جاتی شفافیت ناگزیر ہیں۔ سلامتی کا مضبوط ڈھانچہ بنیاد فراہم کر سکتا ہے، مگر پائیدار ترقی کے لیے معاشی استحکام اور سماجی انصاف بھی ضروری ہیں۔ اگر دفاعی استحکام کے ساتھ معاشی نظم و ضبط اور پالیسی تسلسل کو جوڑ دیا جائے تو ملک نہ صرف بحران سے نکل سکتا ہے بلکہ ایک متوازن ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

قوموں کی تاریخ میں کچھ ادوار آزمائش کے ہوتے ہیں۔ یہی ادوار ان کی شناخت کو نئی شکل دیتے ہیں۔ پاکستان اس وقت ایسے ہی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں حوصلہ، حکمت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی وسائل سے زیادہ اہم ثابت ہو رہے ہیں۔ استقامت کی یہ سیاست وقتی نعروں پر نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی پر قائم ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو موجودہ چیلنجز مستقبل کی طاقت میں تبدیل ہو سکتے ہیں، اور یہی کسی بھی ریاست کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔

اک سوچ …تحریر: سعدیہ مجید

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button