تل ابیب : تل ابیب میں منگل کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کے بارے میں امریکہ کو باخبر رکھا جاتا ہے مگر ان آپریشنز کے لیے واشنگٹن سے پیشگی اجازت حاصل نہیں کی جاتی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ کے بعض حصوں میں ابھی بھی حماس کے ٹھکانے برقرار ہیں جنہیں مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رفح اور خان یونس میں موجود حماس کے مراکز کو بھی جلد نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی گروہ یا شخص اسرائیلی فوج پر حملہ کرنے کی کوشش کرے گا تو نہ صرف حملہ آور بلکہ ان کی پشت پناہ تنظیموں کو بھی ہدف بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی فوج کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے اور غزہ میں اپنی افواج کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیں گے۔
نیتن یاہو نے واضح کیا کہ سیکورٹی سے متعلق اعلیٰ ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے اور وہ اس ذمہ داری کو کسی صورت ترک نہیں کریں گے۔ ان کے اس بیان میں اسرائیل کی فوجی حکمتِ عملی اور روایتی طور پر سخت موقف کی عکاسی دیکھی گئی
ادھر حماس نے امریکہ پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کروانے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہا۔ حماس کے اس ردِ عمل نے خطے میں سفارتی دباؤ اور ثالثی کی کوششوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔




