برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی کی تیسری شادی کے بعد ان کے طرزِ حکمرانی میں سامنے آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے روحانی پس منظر اور مشاورت کو سیاسی و انتظامی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے طور پر دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پارٹی کے اندرونی حلقوں نے یہ تاثر دیا کہ اہم سرکاری تقرریوں اور انتظامی معاملات میں بشریٰ بی بی کا کردار مبینہ طور پر سامنے آتا رہا، جس کے باعث فیصلہ سازی کے عمل میں غیر معمولی اثرات کی نشاندہی کی گئی۔
مزید یہ کہ بعض اسٹاف ممبران نے دعویٰ کیا کہ سفری شیڈول، طیارے کی روانگی اور بانی پی ٹی آئی تک رسائی جیسے انتظامی امور بھی کئی مواقع پر ان کی منظوری سے مشروط ہوتے تھے۔




