نئی دہلی/کولکتہ : بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور حالیہ کولکتہ لا کالج ریپ کیس نے ایک بار پھر مودی حکومت کے ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ نعرے کی قلعی کھول دی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق 24 سالہ طالبہ کے ساتھ 25 جون کی رات جنوبی کولکتہ کے لا کالج میں اجتماعی زیادتی کی گئی۔ ملزمان میں دو سینئر طالبعلم اور ایک سابقہ طالبعلم شامل ہیں، جنہوں نے گارڈ کو دھمکا کر لڑکی کو گارڈ روم میں بند کیا اور درندگی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ لڑکی نے بیانات میں ملزمان کی شناخت ابتدائی حروف J، M اور P سے کی، جبکہ مرکزی ملزم منوجیت مشرا ایک بااثر سیاسی طلبہ تنظیم سے وابستہ ہے۔
واقعہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب یہ انکشاف ہوا کہ کالج انتظامیہ کو اس سنگین جرم کی اطلاع میڈیا کے ذریعے ملی، نہ کہ پولیس یا متاثرہ فریق کی جانب سے، جس سے سکیورٹی نظام کی ناکامی بے نقاب ہو گئی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج اور میڈیکل رپورٹ نے لڑکی کے الزامات کی تصدیق کر دی ہے، تاہم ملزمان تاحال آزاد ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور طلبہ تنظیموں نے شدید احتجاج کیا ہے۔
بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ملک میں ہر سال 30,000 سے زائد ریپ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ ہر گھنٹے 43 خواتین جنسی استحصال کا شکار بنتی ہیں۔ حالیہ امریکی ٹریول ایڈوائزری میں بھی بھارت کو خواتین کے لیے غیر محفوظ ملک قرار دیا گیا ہے۔
مودی حکومت کا خواتین کے تحفظ سے متعلق بیانیہ شدید دباؤ میں ہے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی نعروں سے زیادہ اب مؤثر قانون سازی اور شفاف انصاف کی ضرورت ہے۔




