لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں سموگ کی شدت بڑھ گئی ہے کیونکہ مشرقی ہوائیں بھارت کے سرحدی علاقوں سے آلودہ ہوا کے ذرات لے کر صوبے میں داخل ہو رہی ہیں۔ امریتسر، جالندھر اور لدھیانہ میں بلند PM2.5 لیول کی وجہ سے لاہور اور قصور کے شہری آلودہ ہوا کے براہ راست اثرات محسوس کر رہے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق ہوا کی رفتار صرف 0 سے 2 میل فی گھنٹہ ہے، جس کے سبب رات اور صبح کے وقت آلودگی زمین کے قریب جمع ہو جاتی ہے۔ درجہ حرارت میں کمی اور انورژن لیئر نے سموگ کو شہر پر برقرار رکھا، جبکہ بڑھتی ہوئی نمی اور بادلوں نے فضائی آلودگی کے اوپر اٹھنے کی روک تھام کی ہے۔
عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ زیادہ وقت باہر نہ گزاریں اور حساس افراد ماسک کا استعمال کریں۔




