ثنا کو میڈیکل کی فیلڈ پسند تھی، وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ میں تو اسے منع کر رہا تھا کہ سی ایس ایس کے لیے کوئی اکیڈمی جوائن کر لو مگر اسے میڈیکل کا شوق تھا۔‘
سید یوسف حسن چترال میں اپنے گاؤں سے بی بی سی سے بات کر رہے تھے جہاں ان کی 17 سالہ بیٹی ثنا یوسف کی تعزیت کے لیے لوگوں کا تانتا بندھا ہے۔
خیال رہے پیر کے روز پولیس نے فیصل آباد سے ایک 22 سالہ نوجوان کو ثنا یوسف کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس نوجوان نے 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا اعتراف کیا ہے اور اس سے ثنا کا موبائل فون اور مبینہ آلہِ قتل بھی برآمد ہوا ہے۔
یاد رہے کہ ثنا یوسف کو اسلام آباد میں ان کے گھر کے اندر قتل کیا گیا تھا جہاں وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔ مگر ثنا کے والد نے ابھی تک اس لڑکے کی تصویر نہیں دیکھی جس پر ان کی بیٹی کے قتل کا الزام ہے۔
سید یوسف حسن کہتے ہیں ’مجھے نہیں معلوم وہ کیسا نظر آتا ہے۔ ابھی تک میں نے اس لڑکے کی تصویر بھی نہیں دیکھی جو انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ یہاں گاؤں میں انٹرنیٹ نہیں ہے اور فون کے سگنل بھی بمشکل ملتے ہیں۔‘




