نیویارک: امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنسدانوں نے اپنی حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ زمین پر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور سورج کی شدت میں اضافے کے سبب مستقبل میں فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مالیکیولز بتدریج ختم ہو سکتے ہیں جو کہ ایک سنگین صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ عمل جاری رہا تو زمین پر زندگی کے خاتمے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ درخت اور پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ اگر فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن کی مقدار حد سے زیادہ کم ہو گئی، تو زمین پر موجود تمام جانداروں کی بقا ممکن نہیں رہے گی، اور انسان بھی اس کی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
ناسا کے سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا سلسلہ جاری رہا تو آنے والے چند ہزار سال میں زمین پر سانس لینا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو بند کر دینا چاہیے اور ماحول کو بچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، ورنہ کرۂ ارض پر زندگی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین نے عالمی رہنماؤں اور عوام سے درخواست کی کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اپنے اقدامات کو مزید تیز کریں تاکہ کرۂ ارض پر انسانیت کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔




