پاکستان

پنجاب میں دریاؤں میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک، زرعی زمین شدید متاثر

لاہور:پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دریائے چناب کے مقام ہیڈ پنجند پر سیلاب کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔ پانی کی سطح میں کچھ دنوں کے کمی کے بعد دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت پانی کا بہاؤ چھ لاکھ 68 ہزار کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے، جو سمکہ چاچڑاں کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اسی طرح دریائے سندھ کے تونسہ بیراج پر بھی سیلابی پانی کا بہاؤ تقریباً دو لاکھ کیوسک کے قریب پہنچ گیا ہے۔ دریائے چناب کے تریموں بیراج سے سندھ کی جانب پانی کا ریلا ایک لاکھ 88 ہزار کیوسک سے زائد ہے، جبکہ دریائے ستلج کے مقام گنڈا سنگھ والا پر بھی پانی کی سطح ایک لاکھ 82 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کا سلسلہ گزشتہ تین روز سے جاری ہے، جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

دوسری جانب، اس شدید سیلاب سے پنجاب کی زرعی معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ تقریباً 21 لاکھ 25 ہزار ایکڑ زرعی رقبہ زیرِ آب آ چکا ہے، جس میں کپاس کی فصل کا 1 لاکھ 10 ہزار ایکڑ، چاول کا تقریباً 9 لاکھ 71 ہزار ایکڑ، مکئی کی 1 لاکھ 86 ہزار ایکڑ، اور گنے کی 2 لاکھ 20 ہزار ایکڑ زمین شامل ہے۔ علاوہ ازیں، چارے اور سبزیوں کی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

یہ صورتحال کسانوں اور زراعت پر منحصر آبادی کے لیے انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ فصلوں کے ضیاع سے معاشی نقصان کے علاوہ ملک میں خوراک کی فراہمی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button