بین الاقوامی

اقوام متحدہ نے انسانی سمگلنگ کے خلاف تاریخی قرارداد منظور کر لی

نیو یارک:  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی سمگلنگ کے مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے ایک اہم قرارداد منظور کی ہے۔ 193 رکنی جنرل اسمبلی نے "2025 پولیٹیکل ڈیکلریشن برائے نفاذ گلوبل پلان آف ایکشن ٹو کمبیٹ ٹریفیکنگ ان پرسنز” کے عنوان سے ایک تاریخی قرارداد منظور کی، جس میں انسانی سمگلنگ کی شدید مذمت کی گئی اور اسے نہ صرف سنگین جرم بلکہ انسانی وقار پر شدید حملہ قرار دیا گیا۔

اس قرارداد میں اقوام متحدہ نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی سمگلنگ کی بنیادی وجوہات کو سمجھتے ہوئے اس مسئلے کو خصوصاً خواتین اور بچوں کے حوالے سے حل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔ عالمی سطح پر اس جرم کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر میں اس گھناؤنے جرم کو کم کیا جا سکے۔

پاکستان کے نائب مستقل مندوب، عثمان جدون نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی سمگلنگ عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو دنیا بھر کے معاشروں اور افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلح تنازعات، ماحولیاتی آفات اور معاشی عدم مساوات اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، جو عالمی سطح پر فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

عثمان جدون نے خاص طور پر بچوں کو اس جرم کا شکار بننے کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انسانی نقل و حرکت کے حوالے سے تین اہم حیثیتوں میں شامل ہے: روانگی، گزرگاہ اور میزبان ملک۔ اس لیے پاکستان کے لیے انسانی سمگلنگ ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے، جس پر اقوام متحدہ کو زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے کے بنیادی اسباب جیسے معاشی ناہمواری، قانونی و محفوظ ہجرت کے محدود راستے، اور تنازعات کے حل و تدارک کے اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے عالمی تعاون میں بھرپور حصہ لے گا اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے عالمی منصوبوں کو مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button