اسلام آباد: دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج انسداد بدعنوانی کا دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے آگاہی بڑھانا اور بدعنوانی کے خلاف شعور اجاگر کرنا ہے۔ اس دن کے ذریعے پیغام دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں احتساب کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اور بدعنوانی کے خلاف بلا تفریق اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
انسداد بدعنوانی کا عالمی دن 9 دسمبر 2004ء کو میکسیکو میں شروع ہوا، اور اس دن کا مقصد دنیا بھر میں کرپشن کے خاتمے کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ کرنا ہے۔ اس سال، اقوام متحدہ نے 2025 کے لیے اس دن کا موضوع ’’اچھے کل کے لیے بدعنوانی کے خلاف نوجوانوں کے ساتھ متحد ہونا‘‘ رکھا ہے، جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
کرپشن ایک ایسا ناسور ہے جو کسی بھی معاشرتی اور اقتصادی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس کے اثرات ملک کے ترقیاتی عمل، انصاف کے نظام اور عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے اثرات میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اب لوگ اسے شرمندگی کی بات نہیں سمجھتے بلکہ اسے معمول اور فخر کی بات کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ رشوت کو حق، اور ملاوٹ کو کاروبار سمجھا جانے لگا ہے، جس سے معاشرتی نظام میں گراوٹ اور بداعتمادی پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ دیانت داری، خدمت اور شفافیت کے اصولوں کو اپنایا جائے۔ ان اصولوں کو اختیار کرنے سے نہ صرف کرپشن پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہو سکتا ہے۔ عوام میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور ناامیدی کو دور کرنا ضروری ہے تاکہ قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنایا جا سکے، اور ایک کرپشن فری معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے.




