اسلام آباد: پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بدعنوانی کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس دن کے موقع پر اپنے پیغامات میں کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے حکومت کے اقدامات جاری ہیں اور اس معاملے میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس عزم کی تجدید کرتا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت بدعنوانی کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور یہ جنگ ایک شفاف، منصفانہ اور ترقی یافتہ پاکستان کے لیے ضروری ہے۔ وزیراعظم نے خاص طور پر نوجوانوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے ان کی شمولیت ضروری ہے کیونکہ بدعنوانی کی نوعیت اور طریقہ کار جدید دور میں تیزی سے بدل رہے ہیں۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ انسداد بدعنوانی کا عالمی دن دنیا بھر کے افراد کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ بدعنوانی کے منفی اثرات کی حوصلہ شکنی کریں اور ایک بدعنوانی سے پاک معاشرے کے قیام کے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مالی بدعنوانی نہ صرف ملکی انتظامیہ کو کمزور کرتی ہے بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی، معاشرتی انصاف، مساوات اور معاشی ترقی پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
وزیراعظم نے نیب کی جانب سے مالی بدعنوانی کے خلاف کی جانے والی قانونی کارروائیوں کو سراہا اور کہا کہ نوجوانوں میں انسداد بدعنوانی کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بدعنوانی کے خلاف یہ جنگ وفاقی، صوبائی حکومتوں اور تمام معاشرتی طبقات کی مشترکہ کوششوں سے ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ بدعنوانی کے خلاف جدوجہد پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے کیونکہ کرپشن اداروں کو کمزور کرتی ہے اور عوام کا اعتماد متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے وقت کے ساتھ اپنے احتسابی نظام کو بہتر بنایا ہے اور کئی کیسز میں رقوم واپس کی گئی ہیں، جس سے متاثرہ شہریوں اور اداروں کو ریلیف ملا ہے۔
صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ احتسابی اداروں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رہ کر کام کرنا چاہیے تاکہ شفاف طریقہ کار اور قانون کی عملداری کے ذریعے اداروں کی ساکھ کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے شفافیت اور احتساب کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور عوام کو ایمانداری اور اچھی حکمرانی کے عزم کو مضبوط کرنے کی ترغیب دی۔




