ٹک ٹاک نے اپنے پلیٹ فارم پر مواد کی نگرانی کرنے والے انسانی ماڈریٹرز کو ہٹانے کا فیصلہ کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ماڈریٹرز کو تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد جرمنی میں کمپنی کے ملازمین نے احتجاج اور ہڑتالیں شروع کر دی ہیں۔
کمپنی کے مطابق، جرمنی میں ٹک ٹاک کی ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم کو اے آئی ماڈریشن سسٹم سے بدل دیا جائے گا، جس سے 150 ملازمین کی برطرفی ہوگی۔ یہ فیصلے کے تحت ٹک ٹاک کی ٹیم وہ مواد کی نگرانی کرتی تھی تاکہ ویڈیوز میں تشدد، غلط معلومات، نفرت انگیز تقاریر اور فحاشی کو روکا جا سکے۔
کمپنی کے اس فیصلے کے بعد، جرمنی میں کام کرنے والے ملازمین کی نمائندگی کرنے والی یونین نے ٹک ٹاک کے ساتھ مذاکرات کیے تھے، لیکن کمپنی نے فوری طور پر ان کے مطالبات کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد جرمن ملازمین نے برلن سمیت مختلف شہروں میں ہڑتالیں شروع کر دیں۔
ٹک ٹاک کی ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم دنیا بھر میں مواد کی نگرانی کرتی ہے، اور اس ٹیم کا اہم کردار یہ ہے کہ پلیٹ فارم پر صارفین کے محفوظ تجربے کو یقینی بنایا جائے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں، کمپنی نے عالمی سطح پر اپنی ٹیموں میں کمی کی ہے اور اے آئی سسٹمز کی طرف بڑھا ہے۔
ٹک ٹاک کی طرح دیگر سوشل میڈیا کمپنیاں بھی اپنی مواد کی مانیٹرنگ کے لیے اے آئی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) نے بھی اپنی ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیموں میں کمی کی ہے اور مواد کی مانیٹرنگ کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھا دیا ہے۔




