کاراکاس/واشنگٹن: امریکا اور وینزویلا کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی حکومت نے وینزویلا کے ساحل سے ایک آئل ٹینکر ضبط کرنے کے ایک دن بعد چھ مزید آئل ٹینکرز اور صدر نکولس مادورو کے قریبی کاروباری نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ضبط شدہ ٹینکر "اسکیپر” غیر قانونی آئل شپمنٹ میں ملوث تھا اور اسے امریکی بندرگاہ منتقل کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں وینزویلا کے خلاف سب سے جارحانہ اقدام ہے۔
پابندیوں کی زد میں نہ صرف آئل ٹینکرز بلکہ صدر مادورو کے قریبی رشتہ دار اور کاروباری نیٹ ورک بھی شامل ہیں، جنہیں واشنگٹن غیر قانونی حکومت کے حصہ دار قرار دیتا ہے۔
کاراکاس نے اس اقدام کو بین الاقوامی سمندری ڈکیتی قرار دیا اور شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی منشیات کی روک تھام اور پابندیوں کے نفاذ کے لیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ وینزویلا کا الزام ہے کہ امریکا دراصل اس کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
خطے میں امریکی جنگی بحری جہاز پہلے ہی سرگرم ہیں اور منشیات بردار کشتیوں پر متعدد کارروائیاں ہو چکی ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔




