ایران نے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد اسرائیل پر جوابی میزائل حملہ کردیا، تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں متعدد دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ حملوں میں 23 اسرائیلی زخمی ہوگئے، اسرائیلی فوج نے 2 ایرانی ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں اداے رائٹرز کے مطابق ایران نے امریکی حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے مقبوضہ بیت المقدس اور تل ابیب کے اوپر دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
#BREAKING
More videos revealing huge devastation in the aftermath of Iranian missile strikes in occupied territoires pic.twitter.com/b9hj6FbSdc— Tehran Times (@TehranTimes79) June 22, 2025
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ حالیہ میزائل حملوں میں اسرائیل کے بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، ساتھ ہی حیتیاتی تحقیقی مرکز، اہم معاون اڈوں، اور مختلف سطحوں پر موجود کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز پر بھی حملے کیے گئے۔
#BREAKING
Footage shows Iranian missiles soaring towards occupied territories pic.twitter.com/20mNW96K7G— Tehran Times (@TehranTimes79) June 22, 2025
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے مائع ایندھن اور ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔
🔴 Iran’s IRGC announced that in the 20th round of retaliatory strikes against positions in occupied territories, it employed a combination of long-range liquid and solid fuel missiles equipped with powerful warheads, along with innovative tactics to bypass enemy defenses. pic.twitter.com/rUQULOLImc
— Press TV 🔻 (@PressTV) June 22, 2025
تہران ٹائمز کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کے دوران ساحلی شہر تل ابیب سمیت 3 علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ریسکیو سروسز اور پولیس کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 23 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی ریسکیو سروس میگن ڈیوڈ ایڈم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے 23 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا، جن میں ایک 30 سالہ شخص شامل ہے جو جسم کے اوپری حصے میں شیل لگنے سے زخمی ہوا اور اس کی حالت درمیانے درجے کی بتائی گئی ہے۔
ایران کی جانب سے میزائل حملوں کی اطلاع ملنے کے بعد ملک بھر میں سائرن بجنے لگے اور فضائی دفاعی نظام فوری طور پر فعال کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب اور یروشلم میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسرائیلی پولیس نے شمالی علاقے، جس میں حیفہ کی بندرگاہ بھی شامل ہے، میں ہتھیاروں کے ٹکڑے گرنے کی تصدیق کی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں میزائل حملوں سے متعلق رپورٹنگ پر سخت عسکری سنسر شپ عائد ہے، تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 13 جون کو ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک ملک بھر میں کم از کم 50 میزائل گرنے کی تصدیق کی گئی ہے اور 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق اردن کے محکمہ عوامی تحفظ کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں فضائی حملے کے خطرے کے پیشِ نظر سائرن بجا دیے گئے ہیں۔

دریں اثنا، اسرائیلی فوج نے ایران سے بھیجے گئے 2 ڈرونز گرانے کا دعویٰ کیا ہے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مشرق کی جانب سے چھوڑے گئے ڈرونز کو اردن کی سرحد کے قریب روک لیا گیا ہے۔
دریں اثنا، اسرائیل کی ایئرپورٹس اتھارٹی نے حالیہ پیش رفت کے پیش نظر فضائی حدود کو تاحکم ثانی بند کرنے کا اعلان کردیا۔
اسرائیلی اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’موجودہ حالات کے سبب اسرائیل کی فضائی حدود میں آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مصر اور اردن کے ساتھ زمینی سرحدی گزرگاہیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہ




