کراچی :فیڈریشن ہاؤس کراچی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب معاشی اور دفاعی استحکام کے حوالے سے اہم اعلان بن گئی۔ تقریب میں تاجر برادری نے ملکی قیادت کی پالیسیوں اور دفاعی استحکام پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔
نامور تاجر رہنما ایس ایم تنویر نے اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہمارے لیے انعام بنا کر بھیجا ہے۔ ان کے خطاب کے کلیدی نکات درج ذیل تھے۔ پاکستان ملٹری کے حوالے سے ایشین ٹائیگر بن چکا ہے، اب معاشی ٹائیگر بننے کی باری ہے۔ بھارتی جارحیت کے بعد پاکستانی پاسپورٹ کی عزت میں جو اضافہ ہوا، وہ قومی فخر کا باعث ہے۔ محسن نقوی کی کام کرنے کی رفتار (محسن اسپیڈ) سابقہ تمام ریکارڈز توڑ رہی ہے۔
ایس ایم تنویر نے معیشت کی تلخ تصویر پیش کرتے ہوئے کہا کہ 50 فیصد صنعتیں بند ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر تاجروں کو ہراساں کرنا بند کرے اور عدالتوں کے احکامات کا غلط استعمال روکا جائے۔ آئی ایم ایف کا نام لے کر لگائے گئے ایڈوانس ٹیکسز ختم کیے جائیں۔ ملک کی ترقی کے لیے کم از کم 10 سالہ طویل المدتی صنعتی پالیسی ناگزیر ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وزارت داخلہ کے ساتھ قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور سرحدی علاقوں میں غیر ضروری چیک پوسٹیں کاروبار کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں رابطے کے فقدان کو ختم کر کے ہی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر گوہر اعجاز، خالد تواب اور امان پراچہ سمیت ملک کے دیگر بڑے صنعت کاروں نے بھی شرکت کی اور معاشی بحالی کے سفر میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔




