تحریر: سعدیہ مجید
ایک زمانہ تھا جب محبت خاموشی میں پہچانی جاتی تھی نگاہوں کی سمجھ، رویّوں کی نرمی اور دو دلوں کے درمیان غیر اعلانیہ عہد کے ذریعے۔ آج محبت اکثر اسکرین پر اعلان چاہتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک رجحان عام ہو چکا ہے جس میں میاں بیوی گاڑی میں بیٹھے ویڈیو بناتے ہیں، بیوی جوتوں سمیت شوہر کی گود میں پاؤں رکھتی ہے، اور اس لمحے کو “رومانس” اور “ماڈرن محبت” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ اسے دیکھتے، سراہتے اور دہراتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معصوم اظہارِ محبت لگتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک سنجیدہ تہذیبی سوال چھپا ہے: جب قربت جان بوجھ کر عوامی بنا دی جائے تو کیا وہ قربت رہتی ہے، یا محض ایک ادا بن جاتی ہے؟
یہ تحریر محبت کے خلاف نہیں، نہ ہی ازدواجی تعلق یا جذباتی وابستگی کی نفی ہے۔ ہر مذہب اور تہذیب نے محبت کو انسانی زندگی کی بنیاد مانا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ جب نجی جذبات کو عوامی تماشہ بنا دیا جائے، جب معنی کی جگہ نمائش اور گہرائی کی جگہ توثیق لے لے، تو محبت کی اصل روح کہاں کھڑی رہتی ہے؟
سماجیات کے معروف مفکر ایرونگ گوفمین نے انسانی زندگی کو ایک اسٹیج سے تشبیہ دی تھی۔ ان کے مطابق انسان اکثر اپنی ذات کو دوسروں کے سامنے ایک خاص انداز میں “پیش” کرتا ہے تاکہ وہ مخصوص تاثر قائم کر سکے۔ سوشل میڈیا نے اس اسٹیج کو لامحدود بنا دیا ہے۔ اب نجی گاڑی، جو کبھی خاموش گفتگو اور باہمی قربت کی جگہ ہوتی تھی، ایک شوٹنگ سیٹ بن چکی ہے؛ میاں بیوی کردار بن جاتے ہیں، اور محبت ایک منظر (Scene) میں ڈھل جاتی ہے۔ یوں محبت جینے کی چیز کم اور دکھانے کی چیز زیادہ بن جاتی ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نظر آنے والی چیز کو انعام دیتے ہیں۔ لائکس، ویوز اور شیئرز ایک نفسیاتی چکر پیدا کرتے ہیں جسے ماہرین “ویلیڈیشن اکانومی” کہتے ہیں۔ اس میں جذبات کا اظہار بھی اس سوچ کے تحت ہونے لگتا ہے کہ ناظرین کیا پسند کریں گے۔ یوں اصل احساس آہستہ آہستہ بیرونی توثیق کا محتاج ہو جاتا ہے۔ جو کبھی دل میں محسوس ہوتا تھا، اب اسکرین پر ثابت کرنا پڑتا ہے۔
تمام مذاہب اور تہذیبی روایات میں ایک بات مشترک ہے: قربت کی حفاظت۔ اسلام میں میاں بیوی کے درمیان محبت کو رحمت کہا گیا ہے، مگر اس کے ساتھ حیا اور پردہ بھی بنیادی اقدار ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: “مومن مردوں اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں” (سورۃ النور 24:30–31)۔ یہ حکم محبت کو دبانے کے لیے نہیں، بلکہ اس کی حفاظت کے لیے ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے رازداری اختیار کرو” (مسند احمد)۔ اس حدیث میں ایک گہرا سماجی اصول پوشیدہ ہے: جو نعمتیں بے جا نمائش سے محفوظ رہتی ہیں، وہ زیادہ دیرپا ہوتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں “نظر” یا بدِ نظر کا تصور اکثر توہم پرستی کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانی نفسیات کی گہری سمجھ کا اظہار ہے۔ جب کوئی چیز حد سے زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے تو وہ موازنہ، حسد اور دلوں کی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔ قرآن خود اس انسانی کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے: “اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے” (سورۃ الفلق 113:5)۔ ہر نقصان دشمنی سے نہیں آتا؛ بعض اوقات تعریف کے ساتھ ملا حسد بھی سکون چھین لیتا ہے۔ اس لیے رازداری خوف نہیں، حکمت ہے۔
عیسائیت میں بھی نمائش سے گریز پر زور دیا گیا ہے۔ بائبل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے: “خبردار! اپنی نیکی لوگوں کو دکھانے کے لیے نہ کرو” (متی 6:1)۔ اگرچہ یہ عبادت کے حوالے سے ہے، مگر اخلاقی اصول وسیع تر ہے: جو عمل صرف دکھاوے کے لیے ہو، اس کی روح کمزور ہو جاتی ہے۔ مسیحی فکر میں شادی ایک مقدس عہد ہے، جو خدا کے سامنے قائم ہوتا ہے، عوام کے سامنے نہیں۔
ہندو فلسفے میں گِرہستھ آشرم یعنی ازدواجی زندگی کو اخلاقی نظم کا مرکز مانا گیا ہے، مگر اس کے ساتھ دھرم، ضبط اور توازن پر زور دیا گیا ہے۔ قدیم متون میں گھریلو زندگی کی خوبصورتی کو ذمہ داری، وقار اور حدود کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ قربت کو مقدس توانائی سمجھا گیا ہے، نمائش نہیں۔
بدھ مت خواہش اور انا (Ego) کے تصور کے ذریعے اس مسئلے کو دیکھتا ہے۔ دھمّ پد میں تعریف اور مذمت دونوں سے وابستگی کو دکھ کا سبب کہا گیا ہے۔ جب محبت عوامی داد کی محتاج ہو جائے تو وہ انا کو خوراک دیتی ہے، اور انا آخرکار بے سکونی پیدا کرتی ہے۔ خاموشی میں ٹوٹ جاتا ہے۔
پاکستان جیسے معاشروں میں، جہاں اجتماعی اقدار مضبوط ہیں، ایسے رجحانات کے اثرات زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ جو چیز ایک فرد کا انتخاب ہوتی ہے، وہ آہستہ آہستہ سماجی معیار بن جاتی ہے۔ پھر محبت کو بھی ثابت کرنا پڑتا ہے، دکھانا پڑتا ہے، ورنہ وہ “کافی” نہیں سمجھی جاتی۔ یوں تعلقات مقابلہ بن جاتے ہیں، اور سکون پیچھے رہ جاتا ہے۔
اس مخصوص رجحان کی علامتی اہمیت بھی قابلِ غور ہے۔ چلتی ہوئی گاڑی ذمہ داری، توجہ اور احتیاط کا تقاضا کرتی ہے۔ ایسے میں حد سے بڑھی ہوئی قربت، خاص طور پر جوتوں کے ساتھ، صرف جسمانی حرکت نہیں بلکہ سیاق و سباق سے بے نیازی کی علامت بن جاتی ہے۔ جب قربت موقع اور مقام سے کٹ جائے تو وہ وقار کھو بیٹھتی ہے۔
جدیدیت اکثر کھلے پن کو ترقی سمجھتی ہے، مگر کھلا پن اگر شعور کے بغیر ہو تو وہ محض انکشاف (Exposure) بن جاتا ہے۔ جذباتی سچائی اور جذباتی نمائش میں فرق ہے۔ ماہرین سماجیات خبردار کرتے ہیں کہ جب نجی زندگی مکمل طور پر عوامی ہو جائے تو انسان اپنی اندرونی پناہ گاہ کھو دیتا ہے۔ رشتے پھر خود کو تازہ نہیں کر پاتے۔
یہ تحریر سرد مہری یا جذباتی جمود کی وکالت نہیں کرتی۔ محبت کو جینا، محسوس کرنا اور نبھانا ضروری ہے۔ مگر تہذیبیں حدود سے زندہ رہتی ہیں۔ فرانسیسی مفکر Gay Debord نے “Society of the Spectacle” کی بات کی تھی، جہاں اصل تجربہ نمائندگی میں بدل جاتا ہے۔ جب محبت مواد بن جائے تو وہ خوبصورت ضرور لگتی ہے، مگر نازک ہو جاتی ہے۔
ضبط محبت کو کم نہیں کرتا، گہرا کرتا ہے۔ سب سے مضبوط رشتے وہ نہیں ہوتے جو سب کو نظر آئیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ محفوظ ہوں۔ خاموشی عدم موجودگی نہیں؛ یہ شور کے بغیر موجودگی ہے۔ رازداری محبت کو موازنہ، مداخلت اور حسد سے بچاتی ہے۔
شاید اصل سوال یہ نہیں کہ محبت ظاہر کی جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے اجنبی آنکھوں کی گواہی کیوں درکار ہے۔ جو چیز ناظرین کی محتاج ہو، وہ اکثر قربت نہیں بلکہ عدمِ تحفظ ہوتی ہے۔ محفوظ محبت اعلان نہیں کرتی؛ وہ ٹھہر جاتی ہے۔
ایسے دور میں، جہاں ہر لمحہ فلمایا جا سکتا ہے، نہ دکھانے کا انتخاب ایک فکری عمل بن جاتا ہے۔ محبت کو نجی رکھنا اسے چھپانا
نہیں، بلکہ اس کی عزت کرنا ہے۔ کیونکہ جو چیز قیمتی ہوتی ہے، وہ ہمیشہ قریب رکھی جاتی ہے,نشر نہیں کی جاتی۔
اک سوچ …تحریر: سعدیہ مجید

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے




