تحریر: سعدیہ مجید
پوچھ مت رسوائیِ اندازِ استغنائے حسن
دست مرہونِ حنا رخسار رہنِ غازہ تھا
غالب کا یہ شعر محض حسن و عشق کی داستان نہیں، بلکہ طاقت، غرور، بناوٹ اور محتاجی کی ایسی تمثیل ہے جو آج کی عالمی سیاست پر صادق آتی ہے۔ دنیا کی سفارتی محفلوں میں بھی کئی چہرے ایسے ہیں جو بے نیازی کے تیور تو رکھتے ہیں مگر ان کے ہاتھ قرضِ مفاد میں بندھے ہوتے ہیں اور رخسار مصنوعی رونق کے سہارے روشن دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ مذاکراتی فضا کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہی منظر ابھرتا ہے۔ ایک طرف امریکہ ہے جو عالمی قوت کے منصب پر بیٹھ کر لہجے میں سختی، فیصلوں میں برتری اور بیانیے میں استغنا دکھاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے ہاتھ خطے کی تھکن، توانائی کی سیاست، داخلی تقسیم اور انتخابی مجبوریوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ بڑی طاقتیں اکثر اونچی کرسی پر ضرور بیٹھی ہوتی ہیں، مگر کرسی کے پائے کمزور بھی ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران ہے، جو مزاحمت، خودمختاری اور انکار کی زبان بولتا ہے۔ اس کے بیانیے میں استقلال ہے، مگر اس کی معیشت پابندیوں، مہنگائی اور عوامی دباؤ کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ مزاحمت جب معاشی حقیقتوں سے ٹکراتی ہے تو نعروں کی آواز دھیمی پڑنے لگتی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ فولادی لہجے بھی کبھی کبھی نرم میزوں پر بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
پاکستان اس پورے منظرنامے میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ نہ وہ مکمل تماشائی ہے، نہ مکمل فریق۔ اس کی جغرافیائی اہمیت، مسلم دنیا سے تعلق، خطے میں محلِ وقوع اور بڑی طاقتوں کے درمیان توازن کی ضرورت اسے خاموش مگر اہم کردار بناتی ہے۔ پاکستان جانتا ہے کہ شطرنج کی بساط پر بعض مہرے خود کو بادشاہ سمجھتے ہیں، مگر ان کی چال بھی وقت کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
آج کا دور محض فوجی طاقت کا نہیں، بیانیے کی طاقت کا بھی ہے۔ سفارت کاری اب صرف بند کمروں میں نہیں ہوتی، سوشل میڈیا کی اسکرینوں پر بھی ہوتی ہے۔ ایک تصویر، ایک بیان، ایک لیک شدہ خبر اور ایک ٹرینڈ کبھی کبھی میز پر ہونے والے کئی گھنٹوں کے مذاکرات پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سیاست میں غازہ صرف رخسار پر نہیں، خبر کے چہرے پر بھی مل دیا جاتا ہے۔
پاکستانی پالیسی سازوں کے لیے اس منظرنامے میں اصل سبق یہ ہے کہ دنیا کے بلند آہنگ دعووں سے مرعوب ہونے کے بجائے حقیقت کی تہہ تک دیکھا جائے۔ جو طاقت بہت زیادہ شور مچاتی ہے، وہ اکثر کسی اندرونی کمزوری کو چھپا رہی ہوتی ہے۔ جو ریاست مسلسل انکار کرتی ہے، وہ شاید کسی مجبوری کے دروازے تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ اور جو ملک خاموشی سے توازن قائم رکھتا ہے، وہی بعض اوقات سب سے زیادہ فائدہ اٹھا لیتا ہے۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس وقت جذباتی صف بندی کے بجائے دانشمندانہ توازن اختیار کرے۔ ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات، امریکہ کے ساتھ عملی روابط اور خطے میں امن کی حمایت، یہی وہ مثلث ہے جس سے قومی مفاد محفوظ ہو سکتا ہے۔ ہمیں کسی کے غازے سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے اور نہ کسی کی مہندی زدہ انگلیوں کو اصل طاقت سمجھنا چاہیے۔
غالب نے ایک مصرعے میں جو راز کھولا تھا، وہ آج بھی قائم ہے۔ دنیا کی محفلوں میں بہت سے چہرے روشن ہیں، مگر روشنی ہمیشہ طاقت کی دلیل نہیں ہوتی۔ کئی ہاتھ سجے ہوئے ہیں، مگر سجاوٹ اختیار کی علامت نہیں ہوتی۔ سفارت کی دنیا میں اصل وقار وہی ہے جو بناوٹ کے بغیر قائم رہے، اور اصل طاقت وہی ہے جو شور کے بغیر محسوس ہو۔
اک سوچ …تحریر: سعدیہ مجید

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے




