واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکہ تاریخ کا سب سے بڑا بحری جہاز "وکٹری” تیار کرے گا، جو امریکی بحریہ کی طاقت کو مزید مضبوط کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور نیول چیف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس نئے جہاز کی تفصیلات شیئر کیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ جدید ترین اسلحہ سے لیس ہوگا، جس میں گن، ہائپر سونک میزائل اور لیزر شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہماری فوج دنیا کی بہترین فورس ہے، اور اب امریکی بحریہ میں دنیا کا سب سے طاقتور طیارہ بردار جہاز شامل ہو رہا ہے۔”
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ جہاز شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر تیار کیا جا رہا ہے اور امریکی تاریخ کا سب سے بڑا بحری جنگی جہاز ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو جدید ترین بحری جہازوں کی اشد ضرورت تھی، اور اس وقت پندرہ جدید آبدوزیں اور تین نئے بحری جہاز تیاری کے مراحل میں ہیں۔
"ہم آبدوز سازی میں کسی بھی ملک سے پندرہ سال آگے ہیں، اور چین یا روس بھی ہمارے مقابلے میں نہیں آ سکتے”، ٹرمپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
ٹرمپ نے امریکی بحریہ کی طاقت کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ امریکہ دنیا کی سب سے طاقتور بحریہ بنا رہا ہے، جس کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت بھی کی جا رہی ہے اور معیشت مزید مستحکم ہو رہی ہے۔ "ہمارے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار اور آلات ہیں، اور بحریہ ہیڈکوارٹرز کو بھی مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔”
صدر ٹرمپ نے منشیات کی سمگلنگ کے خلاف امریکہ کے اقدامات پر بھی بات کی اور کہا کہ "ہم سمندر میں منشیات سے بھری کشتیوں کو تباہ کر کے 25 ہزار جانیں بچاتے ہیں۔” انہوں نے کیریبین میں سمندر کے راستے منشیات کی سمگلنگ میں 96.2 فیصد کمی کی کامیابی پر بھی روشنی ڈالی۔
اس کے علاوہ، ٹرمپ نے گزشتہ سال امریکہ میں منشیات کے استعمال سے 3 لاکھ افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور ایبسٹین کیس پر بھی اپنی رائے دی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ کبھی جیفری ایبسٹین کے جزیرے پر نہیں گئے تھے اور ایبسٹین کو مارا لاگو پام بیچ سے نکال دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ رکوا کر 10 لاکھ جانیں بچائیں اور اب تک 8 جنگوں کو روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔




