نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان طالبان کی جانب سے لاجسٹک اور آپریشنل مدد حاصل رہی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان دہشت گرد گروہوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں اور افغانستان خطے میں عدم استحکام کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے افغان طالبان کے اس دعوے کو ناقابلِ اعتبار قرار دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین سے پاکستان میں متعدد حملے کیے، جبکہ 2025 کے دوران حملوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی۔ جنوری 2025 میں ٹی ٹی پی نے فوجی اور چینی کاروباری اہداف کو نشانہ بنانے کی ہدایات بھی جاری کیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق افغان طالبان قیادت کے بعض عناصر ٹی ٹی پی کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے باعث داعش خراسان کی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔چ




