شگر :پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے علاقے شگر (گلاب پور) میں ایک بڑے عوامی جلسے سے دبنگ خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی وزارتیں فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ شگر، گوادر اور گلگت بلتستان کے فیصلے اسلام آباد میں بیٹھا کوئی بیوروکریٹ (بابو) نہیں کر سکتا، جب یہ وزارتیں ہر وقت فنڈز اور وسائل کی کمی کا رونا روتی ہیں تو انہیں برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں، تمام تر اختیارات اور فیصلے مقامی عوام کے سپرد کیے جائیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام اور پیپلز پارٹی کے مابین تین نسلوں پر محیط تاریخی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں ان کی 9 سیٹیں چوری کی گئیں، لیکن محض 3 سیٹوں کے باوجود انہوں نے علاقے کے عوامی مسائل حل کیے۔ انہوں نے شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے عوام کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ الیکشن میں بھرپور طاقت کے ساتھ نکلیں اور ‘فارم 45’ کا تحفظ کریں، جبکہ ‘فارم 47’ کا بندوبست وہ خود سیاسی و قانونی محاذ پر سنبھالیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی ‘سلیکٹ’ ہونے یا فارم 47 کے ذریعے حکومت مانگنے کی درخواست نہیں کی، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے انتخابات بھی پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ ہی منعقد کرائے جائیں تاکہ 18ویں ترمیم کے تحت تمام آئینی حقوق یہاں کے عوام کو منتقل ہو سکیں۔
اپنے خطاب میں چیئرمین پی پی پی نے قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخی کارناموں کو یاد دلایا، جن میں ملک کو متفقہ آئین دینا، پاکستان کو اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت بنانا اور گلگت بلتستان کے عوام کے لیے گندم پر تاریخی سبسڈی دینا شامل ہے۔ معاشی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور تھر کول منصوبے کی شاندار کامیابی کی مثال دی اور کہا کہ سندھ کا کوئلہ سعودی عرب کے تیل جتنا قیمتی ہے، جسے 30 سال تک سبوتاژ کیا گیا مگر آج اسی کوئلے سے بننے والی سستی بجلی فیصل آباد کی صنعتوں کو چلا رہی ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے اسے غریبوں کا واحد معاشی سہارا قرار دیا اور اس پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے BISP کو عملاً ختم کرنے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم آنے والے وفاقی بجٹ میں اس کے فنڈز میں مزید نمایاں اضافہ کریں گے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان کے حالیہ سفارتی و ثالثی کردار کو بھی بھرپور طریقے سے سراہا اور دعا کی کہ پاکستان کی امن کی کوششیں کامیاب ہوں تاکہ معصوم لوگ جنگ کی ہولناکی سے محفوظ رہ سکیں۔




