متعدد ممالک میں افغان مہاجرین کی بڑھتی ہوئی ہنگامہ آرائی، جرائم اور پرتشدد سرگرمیوں کے باعث جرمنی اور ترکی میں ملک بدری اور گرفتاری کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ عالمی برادری نے بھی اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مرکز بن چکا ہے۔
افغان ذرائع ابلاغ، بشمول جریدہ آریانہ نیوز، نے بھی افغان مہاجرین کی مجرمانہ سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے لائیں۔ جرمنی میں گزشتہ سال منشیات اسمگلنگ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث 83 افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا گیا، جبکہ 11 ہزار 888 رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری ہوئے۔
ترک حکام نے غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 32 افغان مہاجرین کو گرفتار کیا، جو ٹینکر میں چھپ کر یورپی ممالک جا رہے تھے۔ 2025 کے دوران ترکی میں مجموعی طور پر 42 ہزار غیر قانونی افغان مہاجرین کو پکڑا جا چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی انتہا پسندی اور افغان مہاجرین کی پرتشدد سرگرمیاں پورے خطے کے لیے سنگین سیکیورٹی خطرہ ہیں اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔




