پاکستان
Trending

پاکستان میں سیاسی جماعتوں پر پابندی کب اور کیسے لگتی ہے؟

 

پاکستان میں مختلف ادوار میں کئی سیاسی و مذہبی جماعتوں پر ریاست مخالف سرگرمیوں، دہشت گردی یا امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزامات پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ آئینِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی جماعت پر پابندی لگا سکتی ہے اگر اس کی سرگرمیاں ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن جائیں۔

طریقہ کار

صوبائی حکومت یا ادارہ وزارتِ داخلہ کو رپورٹ بھیجتا ہے۔ وزارتِ داخلہ کابینہ کو پابندی کی سفارش کرتی ہے۔ وفاقی کابینہ فیصلہ منظور کرتی ہے۔اس کے بعد وزارت داخلہ پابندی کا نوٹی فکیشن جاری کرتی ہے۔اس کے بعد پارٹی کو ڈی لسٹ کرکے رجسٹریشن اور انتخابی نشان منسوخ کر دیتا ہے۔

ماضی میں عائد پابندیاں

1954 می کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر ریاست مخالف سازش کی وجہ پابندی لگی۔ 1971میں نیشنل عوامی پارٹی پر ملک دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے پابندی لگائی گئی ۔1975میں نیشنل عوامی پارٹی، متعدد مذہبی وسیاسی جماعتیں بھی پابندی کاشکار ہوئی۔2021 میں بھی ٹی ایل پی پر پابندی لگائی گئی۔تاہم 7 نومبر 2021 کو پابندی ختم کر دی گئی۔
پاکستان میں جماعتوں پر پابندیاں ہمیشہ ریاستی سلامتی، قانون اور سیاست کے درمیان نازک توازن کا معاملہ رہی ہیں۔اگرچہ قانون پابندی کا اختیار دیتا ہے، مگر جمہوریت کی روح اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ایسے فیصلے سیاسی انتقام سے بالاتر ہو کر، قانونی شواہد اور قومی مفاد کی بنیاد پر کیے جائیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button