پاکستان
Trending

زہر آلود سمندر کی صفائی اور بلیو اکانومی کا تحفظ: پاک بحریہ کی ‘سی گارڈز 2026’ کا مشن شروع

25 سال بعد سمندر کی وہی شفافیت واپس لائیں گے، ماہی گیروں کے لیے 'ویسل مانیٹرنگ سسٹم' ناگزیر ہے: وائس ایڈمرل فیصل امین

 

کراچی : پاک بحریہ نے ملک کے میری ٹائم سیکٹر کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور سمندری آلودگی کے بڑھتے ہوئے ناسور کو روکنے کے لیے ایک ہفتہ طویل "ایکس سی گارڈز 2026” مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مشقیں 9 فروری تک جاری رہیں گی، جن میں سمندری دفاع کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی وائس ایڈمرل فیصل امین نے ایک فکر انگیز تقابل پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 25 سال قبل ہمارا سمندر جتنا شفاف تھا، آج وہ بدقسمتی سے انسانی مداخلت اور فضلے کے باعث زہر آلود ہو چکا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سی گارڈز مشقوں کے دوران ایسی حکمتِ عملی اپنائی جائے گی جس سے سمندری آلودگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ اس سلسلے میں حکومتِ سندھ کے اشتراک سے دو بڑے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں۔
وائس ایڈمرل نے فشنگ انڈسٹری کو پاکستان کے لیے سونے کی کان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے سے سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ماہی گیروں کی معلومات اور استعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی بوٹس پر ویسل مانیٹرنگ سسٹم لگانے کا کام مکمل ہونے والا ہے، جس سے سمندر میں سیکیورٹی اور انتظام کاری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
"محفوظ سمندر، مستحکم پاکستان” کے سلوگن کے ساتھ شروع ہونے والی ان مشقوں میں سرکاری اور نجی شعبوں کے اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا ہے۔ وائس ایڈمرل کے مطابق، جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر (JMICC) کے ذریعے تمام اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد بحال ہوا ہے، جو کہ ملک کے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
گزشتہ 25 سالوں کے دوران سمندری صفائی میں آنے والی کمی پر گہری تشویش ہے۔ فشنگ کے شعبے کو وسعت دے کر اربوں ڈالر کا حصول معاشی ہدف ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button