بین الاقوامی
Trending

پاک بھارت فوجی تنازع کے اثرات: انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ، 85 ارب ڈالرز مختص

 

نئی دہلی : انڈین حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے اپنے دفاعی بجٹ میں بھاری اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میں وزارتِ دفاع کے لیے 85 ارب 40 کروڑ ڈالرز مختص کیے گئے ہیں، جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے۔دفاعی بجٹ میں یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان شدید فوجی تصادم ہوا تھا۔
اپریل 2025 میں پہلگام واقعے کے بعد انڈیا نے پاکستان میں مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر ‘آپریشن سندور’ کے نام سے کارروائی کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے آ گئی تھیں۔ ٹیکنالوجی پر توجہ: انڈین عسکری قیادت اب روایتی جنگ کے بجائے ‘ڈیٹا سینٹرک’ اور ‘مصنوعی ذہانت’ (AI) پر مبنی جنگی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔
بجٹ میں ہتھیاروں اور ساز و سامان کی خریداری کے لیے مختص رقم میں 21.8 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ انڈین فضائیہ کو اس وقت 250 سے 300 نئے طیاروں کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مطلوبہ 42 سکواڈرنز کا ہدف پورا کر سکے۔ جرمنی کے ساتھ 10 ارب ڈالرز کی مالیت سے 6 نئی آبدوزوں کی خریداری کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انڈیا کا دفاعی بجٹ اس کی جی ڈی پی کا 1.9 فیصد ہے، جبکہ چین کا دفاعی بجٹ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دوسری جانب، پاکستان نے بھی گذشتہ سال اپنے دفاعی بجٹ میں 20.2 فیصد اضافہ کیا تھا، جو 2550 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی دوڑ نے دفاعی اخراجات میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔
اس بجٹ کی ایک اہم خاصیت ایران کی چابہار بندرگاہ کے لیے کسی رقم کا مختص نہ کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر بڑھتی ہوئی پابندیاں انڈیا کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے انڈیا اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ نہیں سمجھ رہا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button