اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپوزیشن کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا روزانہ کی بنیاد پر طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور ان کی صحت پر سیاست کرنا مناسب نہیں ہے۔
رانا ثناء اللہ نے سینیٹ کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں حقائق کے منافی ہیں۔ انہوں نے طبی معائنے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا بانی پی ٹی آئی کا اب تک 25 مرتبہ مختلف ماہر ڈاکٹروں نے معائنہ کیا ہے۔ 16 اور 19 جنوری کو ان کے مکمل ٹیسٹ کیے گئے، جبکہ 24 جنوری کو انہیں انجیکشن بھی لگایا گیا جس کا تمام ریکارڈ ڈاکومنٹ پر موجود ہے۔
جیل ڈاکٹر کی جانب سے دی گئی ادویات انہوں نے باقاعدگی سے استعمال کی ہیں۔مشیر سیاسی امور نے کہا کہ 9 دسمبر کو جب میڈیکل بورڈ کا اجلاس ہوا تھا تو بانی پی ٹی آئی نے آنکھ کی کسی تکلیف کی شکایت نہیں کی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاست کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور غلط معلومات پھیلانا "مجرمانہ” عمل ہے۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے بانی پی ٹی آئی کے علاج میں غفلت کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی آنکھ کی تکلیف کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ بروقت علاج نہ ہونے سے بینائی کے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے، اس لیے اس معاملے میں لاپرواہی نہیں برتنی چاہیے۔
رانا ثناء اللہ نے حکومتی موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل مینوئل کے مطابق تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔




