اسلام آباد/کابل : عالمی جریدے "ایشیا ٹائمز” نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر ایک چشم کشا رپورٹ جاری کی ہے، جس میں طالبان حکومت کے تحت افغانستان کو علاقائی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، افغانستان اس وقت اندرونی طور پر سخت گیر جبر اور سرحد پار عسکریت پسندی کے مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں مختلف عالمی اور علاقائی عسکریت پسند تنظیموں کے ہزاروں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں، جو خطے کے امن کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دراندازی اور سرحد پار حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ غیر ملکی شہریوں اور اہم اقتصادی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
طالبان کے داخلی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں مذہبی تشریحات کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر کے ایک ایسا ریاستی ڈھانچہ کھڑا کیا گیا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔
امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے افغان طالبان کے دور میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے عالمی سطح پر سفارش کی ہے کہ افغانستان کو انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی بدترین صورتحال کی بنا پر ‘خصوصی تشویش کا ملک’ قرار دیا جائے۔




