اسلام آباد : پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر میں افغان سرزمین کے استعمال اور طالبان حکومت کی مبینہ سہولت کاری کے حوالے سے سنگین اور ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے ہیں۔ تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، باجوڑ اور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے حملوں میں براہِ راست افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے، 16 فروری کو باجوڑ کے علاقے ملنگی پوسٹ پر ہونے والے ہولناک خودکش حملے کی تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔خودکش بمبار کی شناخت احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی ہے، جو افغانستان کے صوبہ بلخ کا رہائشی تھا۔ شواہد کے مطابق، مذکورہ دہشت گرد افغان طالبان کی سپیشل فورسز کا حصہ رہ چکا تھا۔ اس بزدلانہ کارروائی میں 11 سیکیورٹی اہلکار اور 2 معصوم شہری جامِ شہادت نوش کر گئے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان کے بڑے شہروں میں ہونے والے حملوں کی ڈوریاں سرحد پار سے ہلائی جا رہی ہیں. ترلائی خودکش حملے کے ملزم نے افغانستان میں باقاعدہ عسکری تربیت حاصل کی۔ پشاور و جوڈیشل کمپلیکس (نومبر 2025). ایف سی ہیڈ کوارٹرز پشاور اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس پر حملوں کے تانے بانے بھی افغانستان سے ملتے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان پولیس سینٹر اور وانا کیڈٹ کالج پر حملوں میں بھی افغان باشندوں کی شمولیت کے دستاویزی ثبوت ملے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی حالیہ لہر کے 70 فیصد سے زائد واقعات میں افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو افغانستان میں نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ انہیں افغان طالبان کی جانب سے مکمل سرپرستی اور سہولت کاری بھی حاصل ہے۔ گرفتار ہونے والے دہشت گردوں (جیسے روح اللہ اور نعمت اللہ) کے اعترافی بیانات نے ثابت کر دیا ہے کہ خارجی دہشت گرد گروہ، طالبان قیادت کے زیرِ سایہ پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔پاکستان نے ان شواہد کی روشنی میں عالمی برادری اور افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے وعدے پورے کریں۔




