بین الاقوامی
Trending

امریکی سپریم کورٹ کا صدر ٹرمپ کو بڑا جھٹکا: عالمی تجارتی ٹیرف غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیے

 

واشنگٹن : امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تجارتی ٹیرف (Tariffs) کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔ جمعہ کے روز سنائے گئے اس تاریخی فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ صدر نے ٹیرف نافذ کرتے ہوئے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں صدارتی اختیارات کی حدود کا تعین کرتے ہوئے درج ذیل مشاہدات دیے۔ عدالت کے مطابق ‘انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ’ صدر کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ یکطرفہ طور پر عالمی تجارت پر ٹیرف عائد کر سکیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں عالمی تجارتی نظام بری طرح متاثر ہوا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایسے بڑے معاشی فیصلے نافذ کرنا قانونی طور پر غلط ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کے اقتصادی ایجنڈے کے لیے ایک بہت بڑی ناکامی ہے کیونکہ ٹیرف ان کی پالیسیوں کا بنیادی ستون تھے۔
تجارتی معاہدے خطرے میں: اس فیصلے کے بعد رواں سال کیے گئے کئی بین الاقوامی تجارتی معاہدوں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک سے درآمدات پر بھاری ٹیرف عائد کیے تھے، جو اس فیصلے کے بعد ختم ہونے کی توقع ہے۔
گزشتہ ماہ ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے عدالتی کارروائی کے حوالے سے کہا تھا کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں نہ آیا تو امریکہ کے لیے معاشی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ تاہم، سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے اب صدر کے لیے قانون سازی کے بغیر معاشی اقدامات کرنے کا راستہ محدود کر دیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button