کراچی : سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی تیسری سماعت کے موقع پر سیاسی اور قانونی ہلچل میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے اس ہائی پروفائل کیس میں باقاعدہ فریق بننے کی درخواست دے دی ہے۔
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے عدالت میں پیش ہو کر کمیشن کو آگاہ کیا کہ ان کی جماعت کے پاس اس المیے سے متعلق ایسی خفیہ دستاویزات اور ٹھوس شواہد موجود ہیں جو اب تک منظرِ عام پر نہیں آئے۔ میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ شواہد کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا مقصد اصل حقائق کو سامنے لانا اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے آج کی کارروائی کے دوران کیس کی کڑیاں ملانے کے لیے اہم فریقین کو طلب کر رکھا ہے۔ واقعے کے وقت وہاں موجود 6 عینی شاہدین کو بیانات قلمبند کروانے کے لیے بلایا گیا۔ صدر کراچی چیمبر اور ڈائریکٹر سول ڈیفنس کو بھی ریکارڈ سمیت طلب کیا گیا ہے تاکہ حفاظتی انتظامات اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
فاروق ستار کی جانب سے نئے شواہد کے دعوے کے بعد قانونی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا یہ دستاویزات کیس کا رخ موڑ دیں گی؟ کمیشن ان شواہد کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گا۔




