میکسیکو سٹی: میکسیکو کی تاریخ کے ایک طاقتور ترین ڈرگ لارڈ، نیمیسیو اوسیگوئرا المعروف ‘ایل مینچو’ کے خاتمے نے جہاں عالمی منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہیں ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال سنگین ترین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
میکسیکن وزارتِ دفاع کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائی محض ایک گرفتاری کی کوشش نہیں تھی بلکہ ایک مکمل فوجی آپریشن تھا۔
ایل مینچو کی ہلاکت نے اس تنظیم کو قیادت کے خلا (Leadership Vacuum) سے دوچار کر دیا ہے، جو کہ حریف کارٹیلز کے لیے ایک بڑا موقع بن سکتا ہے۔
جالسکو کے گورنر پابلو لیموس ناورو نے شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ ریاست اس وقت براہِ راست خطرے کی زد میں ہے۔ مسلح جنگجوؤں نے کئی شہروں میں ‘نارکو بلاکیڈز’ (سڑکوں پر گاڑیاں جلا کر ناکہ بندی) کر رکھے ہیں۔ سکول، کاروباری مراکز اور عوامی مقامات سکیورٹی خدشات کے باعث بند کر دیے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے میکسیکن سرحد پر منشیات کی روک تھام کے سخت مطالبات نے صدر کلاؤڈیا شین باؤم کو اس بڑے کریک ڈاؤن پر مجبور کیا۔ اس آپریشن کے عالمی اثرات فوری طور پر سامنے آئے ہیں۔ ایئر کینیڈا نے سیاحتی علاقوں میں تشدد کے پیشِ نظر اپنی سروسز معطل کر دیں، جو میکسیکو کی سیاحت کے لیے ایک بڑا دھکا ہے۔ امریکی حکام نے اس ہلاکت کو ‘بڑی پیش رفت’ قرار دیتے ہوئے مزید کارروائیوں کا اشارہ دیا ہے۔




