اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نہ صرف دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے بلکہ انسانی حقوق کی پامالی میں تمام حدیں عبور کر چکی ہے۔وزیر اطلاعات نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی لہر میں افغان سرزمین استعمال کی گئی۔ انہوں نے کہا "افغانستان میں دہشت گردوں کو باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے، جس پر پاکستان نے موثر جوابی کارروائی کی ہے۔ طالبان نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کر رکھا ہے اور ان کی حکومت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
عطا تارڑ نے افغان معاشرے کے مظلوم طبقات کی حالتِ زار پر روشنی ڈالتے ہوئے درج ذیل چونکا دینے والے حقائق بیان کیے۔ افغانستان میں 18 سے 29 سال کی 80 فیصد خواتین تعلیم کے حق سے محروم ہیں۔
طالبان کے نئے "مجرمانہ ضابطے” نے غلامی، تشدد اور خواتین پر جبر کو قانونی تحفظ دے دیا ہے، جو عالمی انسانی حقوق کے کنونشنز کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ طالبان دور میں معصوم بچوں کو ضروری ویکسین تک فراہم نہیں کی جا رہی، جبکہ خواتین اور اقلیتیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان مذہب کو اپنے ذاتی مفادات اور اقتدار کو طول دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی کے عمل سے خواتین کی نمائندگی کا خاتمہ اور بنیادی حقوق پر قدغنیں اس رجیم کا اصل چہرہ بے نقاب کرتی ہیں۔




