ریاض/نیویارک:سعودی عرب کے دارالحکومت میں امریکی سفارتی مشن پر ڈرون حملے کے بعد خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ ایک جانب سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر سخت ردِعمل دیا ہے تو دوسری جانب ایران نے حملوں کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی اعلامیے کے مطابق دشمن کی جانب سے ریاض اور الخرج کو نشانہ بنانے کے لیے 8 ڈرون روانہ کیے گئے۔ دفاعی سسٹمز کی مداخلت کے باوجود 2 ڈرونز امریکی سفارت خانے کی حدود میں گرے، جس سے عمارت میں آگ لگ گئی اور جزوی ڈھانچہ متاثر ہوا۔
سعودی فورسز نے مؤثر طریقے سے کارروائی کرتے ہوئے باقی ماندہ ڈرونز کو تباہ کر کے بڑی تباہی کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ حملوں کے فوراً بعد ایرانی نائب وزیر خارجہ کا اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے عالمی برادری کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے۔ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہم نے کوئی حملہ نہیں کیا، ایسی کسی بھی کارروائی کا ایران ذمہ دار نہیں ہے۔
اہداف کی فہرست: ایرانی حکام کے مطابق ان کی دشمنی مخصوص ہے اور سعودی معاشی اثاثے (Oil Facilities) ان کے اہداف میں شامل نہیں ہیں۔




