تحریر: مصطفے صفدر بیگ
یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کی زمین ہر سال بارش کے آنسوؤں میں ڈوب کر ہم سے بس یہی سوال کرتی ہے کہ ہم کب ہوش میں آئیں گے، کب عقل کو ہاتھ ماریں گے اور کب زندگی کے اصل معنی سیکھیں گے؟
خرد سے کوسوں میل فاصلے پر رقم یہ داستانِ غم ہے۔ یہ داستانِ غم کوئی نئی بھی نہیں ہے مگر اِس کے کورے اوراق ہر سال سیاہ حاشیوں سے بھر جاتے ہیں۔
کبھی یہ محض قدرت کا فیصلہ لگتا تھا لیکن اب یہ آشکار ہوچکا ہے کہ یہ تباہی صرف آسمان سے نازل نہیں ہوتی بلکہ ہماری اپنی غفلت، بے تدبیری اور ماحولیاتی جرم کی وہ فصل بھی اس میں شامل ہے جو ہمارے پرکھوں نے اپنے ہاتھوں سے بوئی تھی ہے اور اب ہم کاٹنے پر مجبور ہیں۔
سیلاب کی یورش کے بعد کسان کھیتوں میں اپنی محنت کو ڈوبتے دیکھ کر خون کے آنسو روتے ہیں، مزدور اپنی روزی چھنتی دیکھ کر ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور ہم شہر کے باسی محض اس تماشے کے ناظر بنے رہتے ہیں۔
سیلاب کی پہلی جڑ تو موسم کے بگڑتے ہوئے تیور ہیں۔ دنیا کے نقشے پر موسموں کی کتاب نئے عنوانات سے لکھی جا رہی ہے اور پاکستان بھی اس کا ایک باب بن چکا ہے۔
سورج کا قہر بڑھ گیا ہے، پہاڑوں کے ماتھے پر جمے برفانی تاج تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ وہ گلیشیئر جو کبھی دریاؤں کے لیے آب حیات کے خاموش ذخیرے تھے، اب ایک ہی جھٹکے میں اپنی جھولی انڈیل دیتے ہیں اور دریاؤں میں اچانک طغیانی آ جاتی ہے، گویا پہاڑوں نے اپنے صبر کا پیمانہ ایک ہی لمحے میں توڑ دیا ہو۔
دوسری طرف مون سون کی بارشیں بھی اپنی پرانی روش چھوڑ چکی ہیں۔ پہلے جو برسوں کا حساب دنوں میں ہوتا تھا، اب گھنٹوں میں نازل ہو جاتا ہے۔ دھرتی کو سانس لینے کا موقع ہی نہیں ملتا، پانی زمین میں جذب ہونے سے پہلے ہی سیلابی ریلا بن کر ہر رکاوٹ بہا لے جاتا ہے۔
دوسری اذیت ناک حقیقت ہماری اپنی زمین کی پیاسی روح ہے جو اپنی آب کشی (یعنی پانی سمونے) کی قوت کھو چکی ہے۔
وجہ؟ وجہ بھلا کوئی پوچھنے والی ہے؟
ہم نے بے دریغ درخت کاٹ کر اپنے ہی ہاتھوں سے زمین کے محافظ قتل کردیے۔ درخت وہ خاموش نگہبان تھے، جو بارش کے قطروں کو آغوش میں لیتے تھے، مٹی کو سنبھال کر رکھتے تھے اور پانی کو دھیرے دھیرے زمین کے اندر اترنے کا وقت دیتے تھے۔ لیکن جب یہ دستِ سایہ دار کٹ گئے تو بارش کا پانی پہاڑیوں کی ننگی پیٹھ پر کوڑے برسانے لگا، ڈھلوانوں پر مٹی بہا لے گیا اور ہر قدم پر مٹی کے گار یعنی سلیٹیشن کی ایک نئی پرت چھوڑ گیا۔ سلٹیشن ہمارے ڈیموں، جھیلوں اور دریاؤں کی گہرائی کم کرکے ان کی نبض کو کمزور کر رہی ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کی سکت ہر سال سکڑ رہی ہے اور ہم تماشائی بنے اس کا نظارہ کر رہے ہیں۔
تیسری بڑی وجہ وہ بوسیدہ اور ناکارہ آبی ڈھانچا ہے جو صدیوں پرانی جھونپڑی کی طرح کسی بھی لمحے زمین بوس ہونے کو ہے۔ ہمارے ڈیم اور بیراج برسوں سے صفائی اور مرمت کے منتظر ہیں، لیکن سیاست اور صوبائی تنازعات نے نئے ذخائر کی تعمیر کے دروازے ہی بند کر رکھے ہیں۔ دریاؤں کے کناروں پر بنے بند اور پشتے اکثر اتنے کمزور ہیں کہ پانی کے پہلے ہی ریلے کے سامنے ڈھیر ہو جاتے ہیں۔
شہروں میں تو نقشہ اور بھی الم ناک ہے۔ نکاسی آب کا نظام اس قدر ناپختہ ہے کہ ہلکی سی بارش بھی شاہراہوں کو ندیوں میں بدل دیتی ہے۔ نالوں پر ناجائز تعمیرات نے پانی کے راستے روک رکھے ہیں۔ گویا ہم نے خود ہی اپنے شہروں کو ایک بڑے حوض میں تبدیل کردیا ہے، جہاں بارش کا ایک چھوٹا سا بادل بھی قیامت ڈھا دیتا ہے۔
یہ کہانی صرف اعداد و شمار کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ انسانی المیوں کی درد بھری کتھا ہے۔ یہ چیختی سڑکوں، ڈوبتے کھیتوں اور بہتے مکانوں کی کہانی ہے۔ اور یہ کہانی پکارتی ہے کہ اگر اب بھی ہم نے اپنی زمین سے رشتہ نہ جوڑا، اپنے دریاؤں کی سانس بحال نہ کی اور درختوں کے کٹے ہوئے تنوں کو پھر سے سبز نہ کیا تو ہر آنے والا سیلاب صرف پانی نہیں لائے گا بلکہ یہ ہمارے ضمیر کو بھی بہا لے جائے گا۔
کبھی کبھی تو یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ یہ زمین ہمیں بار بار پکار رہی ہے کہ اگر تم لوگ اب بھی نہ جاگے تو کب جاگو گے؟ اگر آج بھی ہم نے ہوش کے در نہ کھولے اور اگر اب بھی ہم نے بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں کا ہر موسمِ برسات پاکستان کے لیے صرف بارش کا پیامبر نہیں ہوگا بلکہ تباہی کا قاصد بن کر آئے گا۔ یہ آفت ہماری زراعت، ہماری معیشت اور ہمارے دیہی معاشرے کے ریشے ریشے کو کاٹ ڈالے گی۔ ہر سیلاب نہ صرف کھڑی فصلوں کو بہا لے جاتا ہے بلکہ زمین کی زرخیز مٹی کی اوپری تہہ بھی نوچ کر لے جاتا ہے، جیسے کسی نے اس کے سبز آنچل کو چیر دیا ہو۔ یہ زمین جو کبھی سنہرے خوشوں سے مہکتی تھی، آہستہ آہستہ بنجر اور بے جان ہو رہی ہے۔ صورتحال یہی رہی تو کسان قرض کے بوجھ تلے دب کر کچلے جائیں گے اور دیہی علاقوں میں بھوک اور غربت کی یلغار ہوگی۔ بے گھر ہونے والے قافلے شہروں کا رخ کریں گے، جہاں پہلے ہی مضافات کی گنجان بستیوں میں انفراسٹرکچر کا سانس پھولا ہوا ہے۔ یہ ہجرت محض مکانی نہیں ہوگی بلکہ یہ سماجی عدم توازن اور بڑھتے ہوئے جرائم کا طوفان بھی اپنے ساتھ لائے گی۔
یاد رکھیں کہ سیلاب کے بعد صرف زمین نہیں مرتی بلکہ انسان بھی بیمار پڑتے ہیں۔ ڈائریا، ملیریا اور ڈینگی جیسی وبائیں کمزور صحت کے نظام پر ہتھوڑے برسانے لگتی ہیں۔ ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ اسکول یا تو پانی میں بہہ جاتے ہیں یا عارضی پناہ گاہوں میں بدل دیے جاتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ قومی خزانے پر ایسا بوجھ پڑتا ہے جو ترقی کے ہر خواب کو روند ڈالتا ہے۔ ہر سال سیلابی نقصانات کی مرمت اور متاثرین کی بحالی پر اربوں روپے صرف ہوتے ہیں، جو اصل میں ان منصوبوں کا خون ہیں جو قوم کو روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتے تھے۔ یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس میں ہم برسوں سے قید ہیں۔ اس چکر سے ہم جتنا نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اتنا ہی اندر دھنس جاتے ہیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ سیلاب کیوں آتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ ہم انہیں روکنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے جنگلات کو بچانا ہوگا۔ درخت لگانا کوئی علامتی مہم نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔ پہاڑوں کی ڈھلوانوں اور دریاؤں کے کناروں پر ایک بڑے، مسلسل اور منصوبہ بند شجر کاری پروگرام کی ضرورت ہے تاکہ زمین پھر سے سانس لے سکے۔
دوسرا کام یہ کرنا ہوگا کہ ہمیں اپنے آبی ذخائر بڑھانے ہوں گے۔ ہمیں ڈیموں کی تعمیر پر سیاست کا چوغہ اتار پھینکنا ہوگا اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر مقدم رکھنا ہوگا۔ موجودہ ڈیموں میں تہیں جماتی سلٹیشن کو ہٹانے کا کام تیز کرنا ہوگا تاکہ وہ پھر سے پانی کا سینہ بھر سکیں۔
تیسرے نمبر پر ہمیں دریاؤں کے کناروں پر بند اور پشتوں کو مضبوط فصیلوں کی طرز پر تعمیر کرنا ہوگا۔ ہمیں سیلابی میدانوں پر ہر قسم کی تعمیر کو آہنی ہاتھوں سے روکنا ہوگا۔ شہروں کے نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا بھی وقت کی فوری اور اہم ترین ضرورت ہے۔
اور ان سب کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک ایسا موثر پیشگی انتباہی نظام قائم کرنا ہوگا جو بروقت خبردار کرسکے تاکہ لوگ ناگہانی صورت میں اپنی جان اور مال محفوظ مقامات تک پہنچا سکیں۔
بلاشبہ یہ سب کچھ حکومت اکیلی نہیں کرسکتی۔ اس لیے ہر شہری کو اس لڑائی کو اپنی لڑائی سمجھنا ہوگا۔ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ ماحول دشمن رویے اصل میں خودکشی کے مترادف ہیں۔ یاد رکھیں کہ پلاسٹک کے استعمال میں کمی، پانی کا محتاط استعمال اور درخت لگانے جیسے بظاہر چھوٹے اقدامات دراصل آنے والے کل کو محفوظ بنانے کے بڑے قدم ہوسکتے ہیں۔
قارئین کرام! سیلاب کوئی آسمانی بلا نہیں ہے کہ ہم ہاتھ باندھ کر بیٹھ جائیں، یہ ہماری اپنی پیدا کردہ آزمائش ہے جسے ہم چاہیں تو قابو میں بھی لا سکتے ہیں۔ لیکن شرط صرف یہ ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں، اپنے ارادے کو فولاد بنائیں اور ایک واضح حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اگر آج بھی ہم نے یہ موقع گنوا دیا تو آنے والا کل ہم سے اپنے حساب کا انتقام لے گا اور اس وقت شاید پچھتاوے کے آنسو بھی اس آگ کو بجھا نہ سکیں۔




