وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پی ڈی ایم اے کی سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ریلیف سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق صوبے بھر میں 47 ریلیف کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جب کہ مون سون بارشوں کے باعث مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
سیلابی صورتحال کے نتیجے میں 120 دیہات جزوی طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں۔ بھکر میں 17، کوٹ ادو میں 15، ڈیرہ غازی خان میں 12، راجن پور میں 5، رحیم یار خان میں 2 اور لیہ میں 1 موضع متاثر ہوا ہے۔ جھنگ میں 42 اور میانوالی میں 10 دیہات سیلابی پانی سے جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
اب تک 624 افراد اور 380 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ متاثرین کو ریلیف کیمپوں میں خوراک، پینے کا صاف پانی، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ دریاؤں کے کناروں اور پاٹ میں رہائش پذیر افراد کو فوری طور پر محفوظ علاقوں میں منتقل کیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
0 4 1 minute read




