اسلام آباد : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) میں خیبر پختونخوا کے صحافیوں کو دی گئی ایک اہم بریفنگ میں سکیورٹی ذرائع نے افغان رجیم کے دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گا۔
سکیورٹی ذرائع نے افغان فورسز کے معاندانہ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے درج ذیل حقائق پیش کیے۔افغان فورسز کالعدم ٹی ٹی پی کی تشکیل اور کارروائیوں میں براہِ راست معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ بگرام سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے فعال مراکز موجود ہیں، جبکہ ان کی قیادت کو شہری آبادی میں چھپایا گیا ہے۔
پاکستان نے اب تک سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے زیرِ استعمال 36 اہم پوسٹوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی کے ردِعمل میں افغان سائیڈ سے 55 مقامات پر پاکستانی سرحد پر حملے کیے گئے۔بریفنگ کے دوران شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کیا گیا۔
کارروائیاں صرف ان مخصوص ٹھکانوں پر کی جا رہی ہیں جہاں سے پاکستان پر حملے ہو رہے ہیں۔ملک کے اندر دشمن کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے روزانہ 200 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں۔سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ داخلی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس اگر سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر کام کرے تو وہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی، مدارس کی رجسٹریشن اور ادویہ اصلاحات پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بنوں میں بچی پر تشدد جیسے واقعات کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسی انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔
بریفنگ کے اختتام پر پاکستان کی قیادت اور فورسز کے عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جو لوگ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ افغانستان میں کریں، پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی رہے گی۔ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی قیمت دشمن کو بھاری پڑے گی۔




