بین الاقوامی
Trending

لندن کا اہم دفاعی یوٹرن: ایرانی خطرات کے پیشِ نظر برطانوی اڈے امریکی فورسز کے لیے کھول دیے گئے

 

لندن: مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کے بدلتے ہوئے حالات اور ایرانی میزائل حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات نے برطانیہ کو اپنی دفاعی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے امریکہ کو مخصوص کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے۔
وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اس فیصلے کی حساسیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون "صرف اور صرف دفاعی” نوعیت کا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فورسز ان اڈوں کو استعمال کرتے ہوئے ان ایرانی میزائل لانچرز اور ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنائیں گی جو لانچنگ کے لیے تیار ہوں۔
اس حکمتِ عملی کا مقصد میزائلوں کو فضا میں بلند ہونے سے پہلے ہی زمین پر ناکارہ بنانا ہے تاکہ برطانوی اہلکاروں اور اتحادیوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔اعلامیہ کے مطابق، برطانیہ خود کسی بھی جارحانہ فوجی مہم کا حصہ نہیں بنے گا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ اڈوں کی فراہمی کا مطلب جنگ میں شمولیت نہیں بلکہ خطے میں موجود اپنے اثاثوں اور اتحادیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم کیئر سٹارمر نے امریکی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، تاہم حالیہ انٹیلی جنس رپورٹس اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث لندن نے اپنا موقف تبدیل کیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان "سپیشل ریلیشن شپ” کو مزید مضبوط کرے گا، البتہ اس سے تہران کے ساتھ تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کا یہ قدم مشرقِ وسطیٰ میں امریکی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button