لاہور: یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے ایف پی سی سی آئی کے عہدیداروں کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان ملک میں گھروں کی تعمیر اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے جلد ایک تاریخی پیکج کا اعلان کریں گے۔
ایس ایم تنویر نے تعمیراتی صنعت کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل حقائق بیان کیے۔ انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی شعبے میں کام رکنے سے 55 لاکھ افراد اپنا روزگار کھو چکے ہیں، جو کہ ایک تشویشناک عدد ہے۔تعمیراتی شعبے سے براہِ راست 78 دیگر صنعتیں وابستہ ہیں؛ جب گھر بننا بند ہوتے ہیں تو ان تمام صنعتوں کا کاروبار بھی ٹھپ ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت 1 کروڑ 20 لاکھ گھروں کی قلت ہے، جسے پورا کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تعمیرات کا آغاز ضروری ہے۔
بزنس لیڈر نے حکومت پر زور دیا کہ صرف پیکج کافی نہیں بلکہ نظام میں اصلاحات بھی ضروری ہیں, فائلر، نان فائلر اور لیٹ فائلر جیسی درجہ بندیوں کو فوری ختم کیا جائے تاکہ سرمایہ کار بلا خوف و خطر پیسہ مارکیٹ میں لائیں۔ تعمیراتی صنعت میں منافع کم ہونے کی وجہ سے سرمایہ اس شعبے سے نکل چکا ہے، جسے واپس لانے کے لیے پرکشش مراعات دینا ہوں گی۔ سالانہ 3 لاکھ اضافی گھروں کی تعمیر ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے حکومت کو نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔




