واشنگٹن/نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کی اسرائیل نوازی اور ایران مخالف پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی اور معاشی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ امریکی جریدے ‘ڈی سی جرنل’ نے اپنی تازہ رپورٹ میں مودی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ان کی غیر متوازن خارجہ پالیسی کے نتائج بھارت کے لیے "تباہ کن” ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، مودی کی پالیسیوں نے خلیجی ممالک میں مقیم کروڑوں بھارتیوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔خلیجی ممالک میں بھارتی کارکنوں کے لیے ویزہ پالیسیاں سخت ہونے اور روزگار کے مواقع کم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ بھارت کو خلیج سے ملنے والے اربوں ڈالر کے ترسیلاتِ زر (Remittances) پر کالے بادل منڈلا رہے ہیں۔
جریدے نے مودی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی قربت کو بھارت کے لیے "سٹریٹجک غلطی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اب عرب دنیا کی نظر میں ایک ‘اسرائیل نواز سکیورٹی کیمپ’ بن چکا ہے، جس سے اس کی دہائیوں پرانی غیر جانبدارانہ ساکھ خاک میں مل گئی ہے۔
ایران مخالف بلاک میں شمولیت نے بھارت کے توانائی کے شعبے اور وسطی ایشیا تک رسائی کے منصوبوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ڈی سی جرنل کے مطابق، مودی حکومت کے ان اقدامات سے بھارت کے طویل المدتی معاشی مفادات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ جریدے نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے فوری طور پر اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا نہ کیا تو اسے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی معاشی اور سیاسی جڑیں کھونا پڑ سکتی ہیں۔





