پاکستان
Trending

سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا اعلان: شرحِ سود 10.5 فیصد پر برقرار، معاشی استحکام کو ترجیح

 

کراچی : سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے پیشِ نظر اپنی نئی مانیٹری پالیسی جاری کر دی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہ کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شرحِ سود کے حوالے سے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کے مالیاتی اشاریوں، مہنگائی کی شرح، اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ اضافے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں مانیٹری پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھنا معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے کے پیچھے درج ذیل اہم وجوہات کارفرما ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں 115 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کے ملکی مہنگائی پر اثرات کا خدشہ ہے۔سٹیٹ بینک مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ (Single Digit) تک لانے کے ہدف پر کاربند ہے، جس کے لیے سخت مانیٹری پالیسی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔
شرحِ سود کو برقرار رکھ کر مارکیٹ میں روپے کی قدر اور سرمایہ کاری کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اگرچہ کاروباری برادری شرحِ سود میں کمی کی منتظر تھی تاکہ قرضوں کی لاگت کم ہو سکے، تاہم اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے کو "حالات کے مطابق محتاط فیصلہ” قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی غیر یقینی کی صورتحال میں شرحِ سود کو برقرار رکھنا ایک منطقی قدم ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button