بھارت میں مودی حکومت کے تحت انتخابی شفافیت پر سنگین تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ مودی سرکار جمہوریت کو صرف ایک دکھاوا بنا کر انتخابی دھاندلی کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا چکی ہے۔
راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی ای وی ایم کے ذریعے انتخابات میں دھاندلی کرتی ہے اور جعلی ووٹ ڈال کر اپنی جیت کو یقینی بناتی ہے، کیونکہ حکومت کو عوامی ناراضی کا سامنا نہیں رہا۔
انہوں نے خاص طور پر مہاراشٹر، ہریانہ اور مدھیہ پردیش کے انتخابات کے نتائج کو غیر معمولی اور مشکوک قرار دیا۔ مہاراشٹر میں گزشتہ پانچ ماہ میں اتنے جعلی ووٹر شامل کیے گئے جتنے پچھلے پانچ سالوں میں نہیں ہوئے، جبکہ لوک سبھا میں اپوزیشن کی جیت کے باوجود اسی ریاست کے اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن کا صفایا کر دیا گیا۔
راہول گاندھی نے الیکشن کمیشن پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ ادارہ ووٹر لسٹ کا ڈیجیٹل ورژن فراہم کرنے سے انکار کرتا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج 45 دن میں تباہ کر دیتا ہے، جو دھاندلی چھپانے کی کوشش ہے۔
کرناٹک اسمبلی انتخابات میں 1,02,500 جعلی ووٹوں کا انکشاف ہوا ہے۔ فارم 6 میں 33,692 غلط اندراجات، 11,965 ڈپلیکیٹ ووٹرز اور جعلی پتے انتخابی دھاندلی کے واضح ثبوت ہیں۔ مہادیواپورہ اسمبلی حلقے میں بی جے پی نے حیران کن برتری حاصل کی، جبکہ وہ اس حلقے کی چھ میں سے سات نشستیں ہار چکی تھی۔
راہول گاندھی نے بنگلور میں ایک لاکھ سے زائد جعلی ووٹ کاسٹٹ کیے جانے کا بھی انکشاف کیا، اور بتایا کہ نئے رجسٹرڈ ووٹروں میں ایک بھی نوجوان نہیں تھا بلکہ تمام نام جعلی تھے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کا پورا نظام بی جے پی کے مفادات کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور جمہوریت کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے اور اب سچائی چھپانا ممکن نہیں۔




