trendingپاکستان

وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے چین پہنچ گئے، چینی صدر شی جن پنگ سمیت عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع

بیجنگ: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اپنے چھ روزہ دورے پر وفاقی وزرا کے ہمراہ چین پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ 25ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، اور مشیر طارق فاطمی بھی موجود ہیں، جنہیں چین پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا۔

اس دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کریں گے اور عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم بات چیت کریں گے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ ایکس پر لکھا کہ "چین کے تاریخی دورے کے دوران میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت کروں گا اور عالمی مسائل پر پاکستان کا مؤقف پیش کروں گا۔”

وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ (سی ایچ ایس) اور ایس سی او ایس ایچ ایس پلس اجلاس میں شریک ہوں گے، جہاں پاکستان کے علاوہ چین، بھارت، روس، قازقستان، کرغزستان، ایران، بیلاروس، تاجکستان اور ازبکستان کے سربراہان مملکت و حکومت شریک ہوں گے۔

اس اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کے موقف کو مزید مستحکم کرنے کے لیے علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔ سی ایچ ایس پلس اجلاس کے دوران وزیراعظم پاکستان کے کثیرالجہتی تعاون کے فروغ، علاقائی سلامتی میں اضافے اور پائیدار ترقی کے عزم کا اعادہ کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف بیجنگ میں دوسری جنگ عظیم کی فتح کی 80ویں سالگرہ کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر پاک-چین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر بات چیت کی جائے گی۔

وزیراعظم نے اس دورے کے دوران چین کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی بات کی ہے اور کہا ہے کہ "ہم خطے کے دیگر اہم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تمام اقدامات اٹھائیں گے۔”

دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ پاکستان اور چین کے تعلقات کا تسلسل ہے، جس دوران سی پیک فیز-ٹو پر بھی بات چیت کی جائے گی اور نئے اقتصادی مواقع پر تبادلہ خیال ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button