واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور وہاں سکیورٹی مشن میں تعاون نہ کرنے پر اپنے قریبی اتحادی ممالک اور نیٹو (NATO) پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے دہائیوں تک دنیا کی حفاظت کی، مگر جب بدلے میں مدد کی ضرورت پڑی تو سب پیچھے ہٹ گئے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں برطانوی وزیراعظم کو خاص طور پر ہدف بناتے ہوئے کہا برطانوی وزیراعظم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے۔ ہم 40 سال سے آپ کی حفاظت کر رہے ہیں، لیکن اب جب اس جنگ (مشن) میں شامل ہونے کا وقت آیا ہے تو آپ تیار نہیں ہیں۔صدر نے مزید کہا کہ ہم نے نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ کیے، لیکن آج ہمارے دفاع اور عالمی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے کوئی ملک سامنے نہیں آ رہا۔ صدر ٹرمپ نے چین، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت دیگر ممالک سے دوبارہ مدد مانگ لی ہے۔
ان کا موقف ہے کہ یہ ممالک اپنی تیل کی ضروریات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں، لہٰذا اس کی حفاظت کی ذمہ داری صرف امریکہ پر نہیں بلکہ ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ممالک جن کی امریکہ نے کئی برسوں تک مدد کی، اب مشکل وقت میں تعاون سے گریز کر رہے ہیں۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور اس کے روایتی اتحادیوں کے درمیان دفاعی معاہدوں اور اخراجات کے معاملے پر تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔




