اسلام آباد: وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر قبضے اور نقصانات کے حوالے سے کیے جانے والے دعووں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں "بے بنیاد اور من گھڑت” قرار دیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق، افغان طالبان کی نام نہاد وزارتِ دفاع کے یہ دعوے محض افغان داخلی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کے لیے تخلیق کیے گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بدقسمتی سے یہ بیانیہ ان عناصر کے زیرِ اثر بنایا گیا ہے جو دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔حکومتِ پاکستان، ‘ماسٹر پراکسی’ افغان طالبان اور ان کی توسیع ‘فتنہ الخوارج’ کے ذریعے پہنچنے والے نقصانات کی باقاعدگی سے نگرانی کر رہی ہے اور MOIB کے ذریعے اس کی اپ ڈیٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔
وزارت نے واضح کیا کہ پاکستان محض زبانی دعوؤں کے بجائے حقائق پر مبنی معلومات فراہم کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے دہشت گردوں کے خلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشنز کے ویڈیو اور تصویری شواہد باقاعدگی سے میڈیا کو جاری کیے جاتے ہیں۔ افغان طالبان کے دعوؤں کا حقیقت کی جانچ (Fact Check) کے دوران کوئی معتبر ثبوت نہیں ملا۔
اعلامیے میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ دہشت گردوں کے ان جھوٹے دعوؤں کو بھارتی میڈیا اور مخصوص سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے جان بوجھ کر وسعت دی جاتی ہے، تاکہ خطے میں عدم استحکام کا تاثر پیدا کیا جا سکے
🔎 Fact Check | Ministry of Information & Broadcasting
◼️ This latest claim of the so called Ministry of Defence of Afghan Taliban Regime regarding capturing some post and made up damages etc is false as always, fabricated and designed to mislead Afghan internal public opinion,… pic.twitter.com/bjmsdskN7q
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) March 14, 2026




