لاہور : وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر جاری علاقائی کشیدگی اور معاشی چیلنجز کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر 69 ارب روپے کا اضافی بوجھ خود برداشت کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قوم کو عید الفطر کی مبارکباد دی اور ملک کے استحکام و سلامتی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں معاشی و توانائی چیلنجز پر تفصیلی روڈ میپ دے دیا ہے۔محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کرائی کہ ملک بھر میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی فراہمی بغیر کسی تعطل کے جاری ہے اور سپلائی سسٹم کو روزانہ کی بنیاد پر بین الوزارتی اجلاسوں میں مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے خبردار کیا کہ عالمی جنگی حالات سے توانائی کا انفراسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے، تاہم حکومت تجارت اور سرمایہ کاری پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محدود وسائل کے باعث اب ‘ٹارگٹڈ ریلیف’ کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے، جس کے تحت صرف مستحق طبقے کو براہِ راست امداد دی جائے گی۔ اس سلسلے میں آئی ٹی، پٹرولیم اور خزانہ کی وزارتیں مشترکہ حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے ڈیمانڈ مینجمنٹ اور توانائی کی بچت کے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر پرائیویٹ سیکٹر حکومت کا ساتھ دے تو ملک کو معاشی بحران سے جلد نکالا جا سکتا ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعادہ کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام پر بوجھ کو کم سے کم کرنا ہے اور معاشی صورتحال کی مستقل بہتری کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔




