اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوجوان پاکستانیوں کو چین میں جدید زرعی مہارتیں سیکھنے کا موقع دینا دونوں ممالک کے دیرینہ تعاون کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں پاکستانی طلبہ کی تربیت سے نہ صرف زراعت بلکہ قومی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔
اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب کے دوران وزیراعظم نے چین میں تربیت کے لیے منتخب طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تعلیمی تبادلہ پروگرام کی بنیاد اُن کے دورۂ شان ژی میں رکھی گئی تھی، جہاں انہوں نے ایک ممتاز زرعی تعلیمی ادارے کا مشاہدہ کیا۔ وہاں کی تحقیق، تعلیم اور طلبہ کی لگن سے متاثر ہو کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو بھی ایسی جدید تربیت کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت کل 1000 پاکستانی طلبہ چین میں مختصر دورانیے کی زرعی تربیت حاصل کریں گے۔ اب تک 300 طلبہ اپنی تربیت مکمل کر چکے ہیں، 100 طلبہ اس وقت چین میں موجود ہیں، اور مزید 300 طلبہ 24 اگست کو روانہ ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زراعت بحران کا شکار ہے، خاص طور پر کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی تشویش کا باعث ہے۔
"آپ چین میں نہ صرف جدید بیج، لائیو اسٹاک اور تحقیقاتی ماڈلز کے بارے میں سیکھیں، بلکہ پاکستان آ کر ان علوم کو مقامی سطح پر استعمال کریں۔”
وزیراعظم نے طلبہ کو یہ بھی یاد دلایا کہ وہ چین میں پاکستان کے نمائندے ہیں، اور انہیں وہاں اپنی کارکردگی سے ملک کا مثبت چہرہ اجاگر کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ بلوچستان کے طلبہ کے لیے 10 فیصد اضافی کوٹہ مختص کیا گیا ہے تاکہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو ترقی کے برابر مواقع مل سکیں۔
انہوں نے کہا کہ:
"اگر ہم میرٹ، ایمانداری اور محنت کو قومی اصول بنا لیں تو پاکستان جلد ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔”
تقریب میں چینی سفیر نے بھی شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے اہم پیش رفت کی ہے، اور زرعی تربیت کا یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان عملی اشتراک کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین مستقبل میں بھی پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا، خصوصاً زراعت، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں۔




