بین الاقوامی
Trending

جنگ بندی کا وقت اور شرائط ہم طے کریں گے: تہران کا واشنگٹن کو دوٹوک جواب

 

تہران: ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے پیش کردہ امریکی تجاویز کو "نا مناسب” قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایران کی اپنی شرائط پر مبنی نہ ہو۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی سفارتکاری کو "ناقابلِ اعتبار” قرار دیتے ہوئے مذاکرات کے عمل کو فی الوقت معطل رکھا ہے۔
ایرانی پریس ٹی وی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے سخت موقف اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران صدر ٹرمپ کو اس بات کا اختیار نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین کریں۔ انہوں نے مزید کہا ہمیں امریکی سفارتکاری کا نہایت تباہ کن تجربہ ہوا ہے، جس پر اب کوئی بھی اعتماد نہیں کر سکتا۔ گزشتہ نو ماہ کے دوران جب ہم جوہری مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کر رہے تھے، ہم پر دو بار حملے کیے گئے، جو کہ سفارتکاری سے کھلی غداری تھی۔
ایران نے علاقائی ثالثوں کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ جب تک درج ذیل شرائط پوری نہیں ہوتیں، دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ایرانی عہدیداروں کے قتل اور خطے کے مزاحمتی گروپوں پر حملے فوری روکے جائیں۔ جنگ سے ہونے والے مالی و جانی نقصانات کا تعین کر کے ان کی ادائیگی کی ضمانت دی جائے۔ اس تزویراتی بحری گزرگاہ پر ایران کے خود مختار حق کو تسلیم کیا جائے۔اس بات کے ٹھوس اقدامات کیے جائیں کہ مستقبل میں دوبارہ جارحیت نہیں ہوگی۔
اسماعیل بقائی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی براہِ راست بات چیت یا مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کا استعمال جاری رکھے گا اور جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایران کی اپنی شرائط کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button