انڈیا میں ایک 22 سالہ قانون کی طالبہ کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام پر گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق شرمشٹھا پنولی پر الزام ہے کہ انھوں نے دانستہ طور پر مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے ہتک آمیز باتیں کیں۔
شرمشٹھا ایک انفلوئنسر ہیں جن کی طرف سے سوشل میڈیا پر اکثر اشتعال انگیز ویڈیوز پوسٹ کی گئیں۔ بعض ویڈیوز میں انھوں نے مبینہ طور پر ہتک آمیز اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ تاہم اپنی گرفتاری کے وقت انھوں نے کہا تھا کہ یہ ’جمہوریت نہیں ہے۔‘
ان کی گرفتاری پر بی جے پی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے پولیس پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا ہے۔ نیدر لیںڈ کی ایک انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے رکن پارلیمان نے بھی ان کی حمایت میں بیان پوسٹ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی رہائی کے لیے اور ان کی مخالفت میں مختلف ٹرینڈز چلائے جا رہے ہیں۔
اس گرفتاری پر مغربی بنگال کی حکومت کو بعض حلقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے تاہم اس معاملے پر حکومتی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس گرفتاری میں تمام ضابطوں کی پاسداری کی گئی ہے۔




