واشنگٹن / اسلام آباد : پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے تعاون سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہو رہی ہے اور تہران کے ساتھ جلد ایک نیا معاہدہ (ڈیل) طے پا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان نے عالمی سطح پر پاکستان کے ‘ثالث’ کے طور پر ابھرتے ہوئے نقش کو واضح کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی رسانی اور برف پگھلانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مذاکرات کا عمل درست سمت میں گامزن ہے جس سے خطے میں تناؤ کم ہونے کی امید ہے۔
مذاکرات کی خوشخبری کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے اپنا روایتی سخت لہجہ بھی اپنایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ایرانی تیل اور خارگ جزیرے (Kharg Island) پر قبضہ کرنا میرا پسندیدہ آپشن ہے۔ اگر معاملات طے نہ پائے تو ہم ایران کے معاشی ستونوں کو اپنے کنٹرول میں لے سکتے ہیں۔
خارگ جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں سے ایران کا 90% سے زائد کچا تیل دنیا بھر میں جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس جزیرے پر قبضے کی بات کرنا ایران کی معیشت کو مکمل مفلوج کرنے کی دھمکی تصور کی جا رہی ہے۔




