تہران / تبریز : مشرقِ وسطیٰ میں جنگی جنون عروج پر پہنچ گیا ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایران کے سٹریٹجک صنعتی اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے بڑے شہروں میں نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حملے کا سب سے بڑا ہدف تبریز کا پیٹرو کیمیکل پلانٹ رہا۔ ایرانی حکام کے مطابق ریسکیو اور آپریشنل ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں اور حالات پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔
ایرانی میڈیا نے واضح کیا ہے کہ پلانٹ کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود کسی قسم کا کوئی زہریلا، خطرناک یا آلودگی پھیلانے والا مادہ خارج نہیں ہوا، جو ایک بڑی انسانی تباہی کا باعث بن سکتا تھا۔
فضائی حملوں نے ایران کے پاور گرڈ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دارالحکومت تہران کے کئی اہم علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے، جس کے باعث ہسپتالوں اور دیگر ضروری اداروں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
حملوں کی زد میں آنے سے البرز میں بجلی کا مرکزی گرڈ اسٹیشن تباہ ہوا، جس کا اثر براہِ راست تہران کی سپلائی پر پڑا۔ایرانی سرکاری میڈیا نے عوام کو پرسکون رہنے کی تلقین کی ہے اور کہا ہے کہ تمام آپریشنل ٹیمیں بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ تاہم، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی داخلی تنصیبات پر اس براہِ راست حملے نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور خطے کے امن پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔




